کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 203
ان احادیث کی روشنی میں ہمارا موقف ہے کہ عورت احرام کی حالت میں نقاب نہ پہنے البتہ اپنی چادر سے چہرہ کو ضرور چھپائے جب کوئی اجنبی آدمی سامنے ہو ، بصورت دیگر منہ کھلا رکھے۔ ( واللہ اعلم) جمرات کو جوتے مارنا اور گالیاں نکالنا سوال:حج کے موقع پر اکثردیکھا جاتا ہے کہ جمرہ عقبہ ( بڑے شیطان) کو چھوٹی کنکریاں مارنے کے بجائے بڑے بڑے پتھر یا جوتے مارے جاتے ہیں، بعض لوگ وہاں تھوکتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں،یا کنکریاں مارتے وقت ایسا کرنا جائز ہے؟ جواب: حاجی کو چاہیے کہ وہ منیٰ پہنچنے سے پہلے ہی جمرات کو مارنے کے لئے راستہ سے کنکریاں اٹھائے، وہ مزدلفہ ، منیٰ یا کسی اور جگہ سے بھی اٹھائی جا سکتی ہیں اور ان کا حجم لوبیے کے برابر چنے کے دانے سے ذرا بڑا ہونا چاہیے، کنکریوں کے علاوہ کوئی اور چیز کے ساتھ رمی جائز نہیں ۔ چنانچہ سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس ذوالحجہ کو اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے حکم دیا کہ ’’ مجھے کنکریاں چن دو‘‘ میں نے سات کنکریاں چن دیں جو انگلیوں کے پوروں میں آ سکتی تھیں۔ آپ انہیں ہاتھ میں لے کر حرکت دینے لگے اور ان کی مٹی جھاڑنے لگے پھر آپ نے فرمایا: ’’ پس کنکریاں مارو اور اے لوگو! دین میں غلو کرنے سے بچو۔ بے شک پہلے لوگوں کو دین میں غلو نے تباہ کر دیا تھا۔‘‘[1] اس حدیث کی روشنی میں بڑے شیطان کو جوتے مارنا ، اس پر تھوکنا اور اسے گالیاں دینا جائز نہیں۔ اسی طرح اسے بڑے بڑے پتھر مارنا بھی جائز نہیں ، یقیناً اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے تو وہ شیطان کو خوش کرتا ہے۔ کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ اسے رمی کرتے وقت اس کی خوشی کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے ، مذکورہ حدیث کی روشنی میں حاجی کو چاہیے کہ وہ صرف کنکریاں مارنے پر اکتفاء کرے اور دین میں غلو سے اجتناب کرے۔ ( واللہ اعلم) معذور، صاحب استطاعت کا حج سوال:ایک آدمی مالی اعتبار سے حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہے لیکن جسمانی طور پر معذور یا اتنا کمزور ہے جو حج کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث ہے، یا اسے ایسی بیماری لاحق ہے جس سے شفا کی امید نہیں، ایسے حالات میں فرضیت حج ساقط ہے یا اس کا کوئی متبادل حل ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں؟ جواب: حج کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے استطاعت کا ذکر کیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ سکتا ہو، سفر کی مشکلات برداشت کر سکتا ہو نیز حج کے لئے آنے جانے، کھانے پینے اور رہائش کا خرچہ اپنے پاس رکھتا ہو، اس کے علاوہ وہ اپنے اہل و عیال کا خرچہ بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، اس تناظر میں اگر کوئی مالی اعتبار سے صاحب استطاعت ہے لیکن جسمانی طور پر وہ حج کرنے کے قابل نہیں تو اسے چاہیے کہ کسی کو نائب بنا کر حج کے لئے روانہ کرے جو اس کی طرف سے حج کرے ۔ جیسا کہ ایک [1] سنن النسائي ، المناسک : ۳۰۵۹۔