کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 194
متعین فرمائی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں کو بنیاد بنا نے کی بجائے مقدار کو بنیاد بنایا اور تمام اجناس کی یکساں مقدار کو ملحوظ رکھا۔ ہمارے نزدیک سنت پر عمل کرنا ہی باعث خیر و برکت ہے نیز ہمارے ہاں چونکہ گندم عام دستیاب ہے اس لیے ایک صاع ہی ادا کرنا چاہیے ۔ اگر غریب اور نا دار لو گوں کو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے حدیث کے پیش نظر نصف صاع دینے کی رعایت دیتے ہیں تواندیشہ ہے کہ اس سے کھاتے پیتے لوگ بھی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ (واللہ اعلم) فرضیت صدقہ الفطر سوال: علامہ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب المحلیٰ ص ۱۸، ج ۲ میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ صدقہ فطر کی فرضیت کے قائل نہیں، اس سلسلہ میں نسائی کی ایک روایت بھی پیش کی جا تی ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ صدقہ الفطر کی شرعی حیثیت واضح کریں۔ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس انسانی کے تزکیہ کے لیے اور مالی خرابی کو دور کر نے کے لیے زکوۃ فرض کی ہے ، اسی طرح روزے کے دورا ن سر زد ہو نے والے کسی لغو کام اور نا مناسب بات سے روزے کی تطہیر کے لیے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :’’ صدقۃ الفطر کی فرضیت کا بیان ‘‘[1]پھر آپ نے اپنے اسلوب کے مطابق بطور تائید ابو العالیۃ عطا رحمۃ اللہ علیہ اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا موقف پیش کیاہے کہ یہ حضرات بھی اس کی فرضیت کے قائل تھے، بطور دلیل حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر فرض قرار دیا تھا۔[2] امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے واقعی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ صدقہ فطر کی فرضیت کے قائل نہیں تھے جیسا کہ سوال میں اس کی وضاحت ہے لیکن امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت مبنی بر حقیقت نہیں ہے۔کیونکہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ خود لکھتے ہیں : زکوۃ اہل دیہات پر بھی فرض ہے جیسا کہ شہر کے رہنے والوں کے لیے اس کی ادائیگی ضروری ہے ۔[3] اس سلسلہ میں جو روایت پیش کی جا تی ہیں وہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، آپ فرما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکوۃ اموال کا حکم نازل ہونے سے پہلے صدقہ فطر ادا کر نے کا حکم دیا، جب زکوۃ کے احکام نازل ہوئے تو پھر آپ نے اس کے متعلق دوبارہ کوئی حکم نہ دیا اور نہ ہی اس کی ادائیگی سے منع فرمایا، البتہ ہم اسے ادا کر تے رہے۔[4] حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کا جواب بایں الفاظ دیاہے :’’جب صدقہ فطر پہلے فرض قرار دیا گیا تھا تو زکوۃ اموال کے حکم کے نزول کے ساتھ اس کی فرضیت منسوخ نہیں ہو گی، کیونکہ ایک فرض کا نازل ہونا دوسرے فرض کے ساقط ہو نے کو مستلزم نہیں جبکہ دونوں کی حیثیت بھی الگ الگ ہے کیونکہ صدقہ فطر، نفوس سے متعلق ہے جبکہ زکوۃ ، اموال سے تعلق رکھتی ہے۔ ‘‘[5] حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا یہ جواب عقل و نقل کے عین مطابق ہے اور اس روایت سے صدقہ فطر کی فرضیت منسوخ نہیں ہو تی ، نیز اس کی ادائیگی فرض ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں صدقہ فطر کو ’’زکوۃ رمضان‘‘ قرار دیا ہے۔[6]اس کے علاوہ متعدد محدثین کرام نے اس کی فرضیت کے [1] صحیح بخاری، الزکوۃ ، باب نمبر ۷۰۔ [2] صحیح بخاری، الزکوۃ: ۱۵۰۳۔ [3] موطا امام مالک مع تنویر الحوالک، ص ۷۲۰۹۔ [4] نسائی، الزکوۃ: ۲۵۰۰۹۔ [5] فتح الباری ، ص ۴۶۳، ج ۳۔ [6] نسائی، الزکوۃ: ۲۵۰۲۔