کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 154
اذان و اقامت کا حکم نماز عید کے لیے اذان اور اقامت نہیں کہی جا تی ، چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں متعدد مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز عید میں حاضر ہوا ، آپ نے نماز عید خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر پڑھائی۔[1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز عید کے لیے اذان اور اقامت ثابت نہیں۔ نماز عید کے لیے رکعات کی تعداد عیدین کی نماز دو، دو رکعت ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں کہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز دو ، دو رکعت ہے، مسافر کی نماز بھی دو رکعت ہے، اسی طرح نماز جمعہ کی بھی دو رکعت ہےہیں، یہ تمام نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی یا نقص نہیں۔[2] تکبیرات زوائد نماز عیدین میں تکبیر تحریمہ کےعلاوہ بارہ تکبیریں زائد کہی جا تی ہیں، سات پہلی رکعت اور پانچ دوسری رکعت میں۔ دونوں رکعات میں تکبیرات زوائد ، قرأت سے پہلے ہوں گی ۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی پڑھتے وقت پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہا کر تے تھے۔ [3] تکبیرات میں رفع الیدین: تکبیرات کہتے وقت رفع الیدین کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی ثابت نہیں ، البتہ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر تکبیر کہتے وقت ہاتھ اٹھا تے تھے۔[4] اسی طرح عبا ء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا: ’’ کیا امام نماز عیدین میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرے اور لوگ بھی اس کے ساتھ ہاتھ اٹھائیں۔ انھوں نے جواب دیا:’’ہاں‘‘۔[5] ان آثار و اقوال کی روشنی میں اگر کوئی تکبیرات عیدین میں رفع الیدین کر تاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے اور اگر کوئی نہیں کر تا تو اس کا بھی جواز ہے، ایسے مسائل میں تشدد درست نہیں۔ تکبیرات کے درمیان ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیرات زوائد کے درمیان کوئی ذکر ثابت نہیں ، البتہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو تکبیرات کے درمیانی وقفہ میں اللہ کی تعریف اور حمد و ثنا ء کرنی چاہیے۔[6] نماز عیدین میں مسنون قرأت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کی نمازوں میں [1] مسلم، العیدین: ۸۸۵۔ [2] نسائی ، العیدین: ۱۵۶۷۔ [3] مسند احمد، ص۷۰،ج ۶ [4] زاد المعاد ، ص ۱۴۴۱، ج ۱۔ [5] مصنف عبد الرزاق، ص ۲۹۷، ج ۳۔ [6] بیہقی: ص ۲۹۱، ص ۳۔