کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 151
کتاب ’’الترغیب و الترھیب ‘‘ میں منہج یہ ہے کہ جس حدیث کی ابتدا ء مجہول صیغہ سے کریں یعنی اسے روی سے بیان وہ روایت ضعیف یا موضوع ہو تی ہے، اس حدیث کو بھی انھوں نے صیغہ تمریض سے شروع کیا ہے۔ اس روایت کو علامہ نصر مقدسی نے بھی بیان کیا ہے ، اس میں چار راتوں کا ذکر ہے، پانچویں رات یعنی پندرھویں شعبان کا ذکر نہیں ہے۔ اس روایت کی سند میں عبد الرحیم بن زید العمی نامی راوی کذاب اور متروک ہے، اس سے بیان کر نے والا سوید بن سعید بھی ضعیف ہے۔ اس سند کے متعلق علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :’’ظلمات بعضھا فوق بعض ‘‘ اس کی سند میں کئی ایک اندھیرے ہیں۔[1] اس سلسلہ میں تیسری روایت بھی بیان کی جا تی ہے جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی رات عبادت کر تا رہا، اس کا دل اس دن بھی مر دہ نہیں ہو گا جس دن (قیامت کے دن ) تمام دل مر دہ ہو جا ئیں گے۔ اس روایت کو حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیان کیا ہے ۔[2] انھوں نے بتایا ہے کہ اس روایت میں عمر بن ہارون بلخی نامی راوی ہے ، اس کے متعلق ہم پہلے بھی وضاحت کر آئے ہیں ، علامہ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے متعلق مزید لکھا ہے : ابن معین نے اس کو کذاب کہا ہے اور محدثین کی ایک جماعت نے اسے متروک قرار دیا ہے۔[3]میزان الاعتدال میں اس کے متعلق ’’کذاب خبیث‘‘ کے الفاظ استعمال ہو ئے ہیں۔ [4] حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ عید کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک سوئے رہے اور آپ نے شب بیداری نہیں فرمائی، عیدین کی رات عبادت کر نے کے متعلق کوئی صحیح روایت مروی نہیں ہے ۔ [5] محدثین کرام کی مندرجہ بالا تصریحات کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ عیدین کی رات خصوصی عبادت سے پر ہیز کریں، ہاں اگر کوئی پابندی سے تہجد گزار ہے تو حسب عادت اس رات نوافل ادا کر نے میں چنداں حرج نہیں۔ (واللہ اعلم) خطبہ جمعہ کی طوالت سوال: ہمارے ہاں خطباء حضرات خطبہ جمعہ بہت لمبا کر تے ہیں جس سے سامعین اکتا جا تے ہیں اور نماز بہت ہی مختصر پڑھا تے ہیں، کیا قرآن و حدیث میں اس کا جواب ہے ،وضاحت فرمائیں۔ جواب: عقل مند اور صاحب بصیرت خطیب وہ ہے جو حالات پر نظر رکھتے ہوئے خطبہ دیتے وقت جامع کلمات استعمال کر ے اور مختصر گفتگو کرے کیونکہ مختصر اور جامع بات جلدی ذہن نشین ہو جا تی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طویل خطبے سے احتراز فرما تے تھے، چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت طویل وعظ و نصیحت نہیں فرما تے تھے بلکہ چند مختصر کلمات پر ہی اکتفا ء فرما تے تھے۔ [6] خطبہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درج ذیل ارشاد گرامی ہمارے واعظین اور خطباء کے لیے مشعل راہ ہے، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی کی لمبی نماز اور چھوٹا خطبہ اس کی فقاھت کی علامت ہے۔[7]اس میں نماز اور خطبہ کا باہمی تقابل مراد نہیں ہے بلکہ عام نمازوں سے جمعہ کی نماز طویل اور عام خطبوں سے جمعہ کا خطبہ مختصر ہونا [1] التر غیب و التر ھیب: ص ۱۵۲، ج ۱۔ [2] مجمع الزوائد :ص۱۹۸، ج ۲۔ [3] تلخیص المستدرک ، ص ۸۷، ج ۴۔ [4] ص ۲۲۸، ج ۳۔ [5] زاد المعاد، ص ۱۵۶، ج ۱۔ [6] ابو داؤد ، الصلوۃ: ۱۱۰۷۔ [7] صحیح مسلم، الجمعۃ: ۸۶۹۔