کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 131
چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں تیس (۳۰) آیات کے برابر قرأت کر تے اور دوسری دو رکعت میں پندرہ آیات کے برابر اور عصر کی پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیات کے برابر قرأت کر تے اور دوسری دو رکعات میں اس سے نصف کے بقدر قرأت کر تے تھے۔ [1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی بھی دوسری سورت پڑھی جا سکتی ہے، اگرچہ سورۃ فاتحہ پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہو تی تاہم اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت بھی ملائی جا سکتی ہے۔ (واللہ اعلم) آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ کرنا سوال: بعض دفعہ مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر جماعت ہو تی ہے، امام سجدہ کی آیت پڑھتا ہے، بازار میں کسی کے کام میں اچانک آیت سجدہ پڑ جا تی ہے جبکہ اس کا سننے کا ارادہ نہیں ہو تا، کیا محض سننے سے ہی سجدہ لازم ہو جا تا ہے ؟ جواب: سجدہ تلاوت مشروع ہے لیکن جو شخص قرآن سننے کے لیے فارغ ہوا اور اسے بغور سنے، اسے چاہیے کہ پڑھنے والے کی طرح سجدہ کرے، اگر کوئی شخص قرآن مجید سننے کی نیت سے نہیں بیٹھا بلکہ اچانک اس کے کان میں آیت سجدہ پڑ گئی تو اس کے لیے سجدہ تلاوت ضروری نہیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو آیت سجدہ تلاوت کر رہا تھا تو آپ نے سجدہ نہ کیا اور فرمایا کہ سجدہ اسے کرنا چاہیے جو آیت سجدہ کو غور سے سنتا ہے پھر آپ وہاں سے گزر گئے اور سجدہ نہ کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے درج ذیل الفاظ سند کے بغیر بیان کیے ہیں: ((انما السجدۃ علی من استمعھا)) [2] سجدہ اسے کرنا چاہیے جو آیت سجدہ کو غور سے سنتا ہے ، مذکورہ واقعہ کی تفصیل حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کی ہے۔[3] البتہ کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ سجدہ تلاوت پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر ضروری ہے ، وہ دلیل کے طور پر یہ موقوف روایت پیش کر تے ہیں،’’جس نے سجدے کی آیت سنی اور جس نے تلاوت کی ، ان دونوں پر سجدہ لازم ہے۔ ‘‘ فقہائے احناف اس روایت کو پیش کر تے ہیں، علامہ زیلعی نے لکھا ہے کہ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ کتب حدیث میں مروی نہیں۔ (واللہ اعلم) تسبیح کا استعمال سوال: نماز کے بعد اذکارِ مسنونہ کرنے کے لیے تسبیح کا استعمال شرعاً کیا حیثیت رکھتا ہے ، ہمارے ہاں کچھ حضرات اسے بدعت کہتے ہیں، اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔ جواب: نماز کے بعد جو اذکار کیے جا تے ہیں، ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں کہ تسبیح کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑے، [1] مسند احمد، ص ۲،ج۳۔ [2] بخاری، سجود، القرآن ، باب نمبر ۱۰۔ [3] فتح الباری، ص۷۲۰،ج۲۔