کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 103
بہر حال تیز بارش کی وجہ سے نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، صحیح مسلم کی روایات میں بھی اسی کا اشارہ ملتا ہے۔ [1] نماز دیر سے پڑھنے کو معمول بنا لینا سوال: میں رات جلد سوجاتا ہوں ،جس بنا پر میری عشا کی نماز رہ جا تی ہے ، میں اسے صبح کی نماز کے بعد ادا کرتا ہوں، اسے چھوڑتا نہیں، اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ؟ جواب: نماز کا بر وقت ادا کرنا ضروری ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’بلا شبہ اہل ایمان پر مقررہ اوقات میں نماز کا ادا کرنا فرض ہے۔ ‘‘[2] حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ [3]ہاں اگر کوئی نماز سے سویا رہے یا غفلت کی وجہ سے نہ پڑھ سکے تو اسے جب یاد آئے پڑھ لے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:’’جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے یا سو یا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے وہ نماز پڑھ لے۔ ‘‘[4] ایک روایت میں ہے کہ اس کا کفارہ صرف یہی ہے۔[5] لیکن یہ بات مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ہر روز نماز عشا میں اتنی سستی کرے کہ وہ فجر کے بعد پڑھنے کا معمول بنا لے، اگر وہ کام کاج کی وجہ سے بر وقت گھر نہیں آتا تو اسے چاہیے کہ اپنی ڈیوٹی کے وقت ہی بر وقت نماز پڑھ لے یا گھر آ کر اسے ادا کر لے، گھر میں کسی کی ڈیوٹی بھی لگائی جا سکتی ہے کہ وہ اسے نماز کی ادائیگی کے لیے بیدار کر دے، ہاں اگر کوئی شدید عارضہ لاحق ہو یا نیند کا شدید غلبہ ہو تو وہ سونے کے بعد بھی اسے ادا کر سکتا ہے لیکن ہمیشہ اسے صبح کی نماز کے بعد ادا کرنا اور اسے معمول بنا لینا مستحسن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ آمین اذان دے کر گھر جانا سوال: ہمارے ہاں ایک امام صاحب اذان دے کر سنتیں ادا کرنے کے لیے اپنے گھر چلے جا تے ہیں، کیا ان کا ایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہے ؟ نیز بتائیں کہ جو آدمی اذان کہے تکبیر بھی وہی کہے یا کوئی دوسرا بھی تکبیر کہہ سکتا ہے۔ جواب: مندرجہ بالا سوال کے دو جزو ہیں۔ (الف) اذان دے کر مسجد سے باہر جانا، (ب)کیا موذن ہی تکبیر کہے۔ جہاں تک اذان کہہ کر مسجد سے باہر جانے کا تعلق ہے تو اذان ہو جانے کے بعد معقول شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے جیسا کہ جناب ابو الشعشاء بیان کر تے ہیں کہ ہم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ موذن نے عصر کی اذان کہی تو اس کے بعد ایک شخص مسجد سے باہر نکل گیا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا: اس نے حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی کی ہے۔ [6] [1] صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین:۱۶۳۳۔ [2] النساء:۱۰۳۔ [3] مسند امام احمد: ص ۱۴۷، ج۵۔ [4] مسند امام احمد، ص۲۹۸،ج۵۔ [5] صحیح مسلم، المساجد:۶۸۴۔ [6] مسلم، المساجد: ۶۵۵۔