کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 4) - صفحہ 101
اسی طرح ایک حدیث قدسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو دن کی ابتدا میں چار رکعت ادا کر، میں تجھے سارے دن کے لیے کافی ہو جاؤں گا۔[1] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ ہے ، ان تمام صدقات سے نما ز چاشت کی دو رکعات کفایت کر جاتی ہیں۔ [2] یہ تمام احادیث نماز چاشت کی مشروعیت اور اس کی فضیلت کی نشاندہی کر تی ہیں، اگرچہ کچھ اسلاف نے اسے بدعت قرار دیا ہے وہ شاید کسی خاص کیفیت کو انھوں نے بدعت کہا ہو گا بصورت دیگر یہ نماز استحباب کا درجہ رکھتی ہے اس کا وقت طلوع آفتاب کے بعد سے لے کر زوال آفتاب تک ہے۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ نماز چاشت اس وقت ہے جب شدت گرمی کی وجہ سے اونٹ کے پاؤں جلنے لگیں۔[3]اس کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات پڑھنا ثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیں۔ [4] ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے نماز چاشت کی بارہ رکعات ادا کیں، اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں ایک محل بنا دیا جائے گا۔ [5]لیکن حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ [6] لہٰذا نماز چاشت کی رکعات دو سے آٹھ تک ہیں، اسی مقدار پر اکتفا کیا جائے۔ (واللہ اعلم) حالتِ جنابت میں ادا کی گئی نماز سوال: میں نے صبح کی نماز ادا کی ، نماز کے بعد مجھے پتہ چلا کہ مجھے غسل کرنا چاہیے تھا کیونکہ کپڑوں پر احتلام کے اثرات تھے، ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے، مجھے نماز دوبارہ پڑھنا ہو گی یا پہلی نماز کافی ہو گی ؟ جواب: اگر کسی انسان کو نماز پڑھنے کے بعد پتہ چلے کہ وہ بے وضو تھا یا اس نے غسل کرنا تھا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ وضو کرے اگر وضو کرنے کی ضرورت تھی اور غسل کرے اگر اس پر غسل کرنا فرض تھا پھر دوبارہ نماز کو ادا کرے ، نا پاکی کی حالت میں ادا کی ہوئی نماز شرعاً نماز نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :’’اللہ تعالیٰ، طہارت کے بغیر کوئی نماز بھی قبول نہیں کرتا۔ ‘‘[7] اس حدیث کے پیش نظر ناپاکی کی حالت میں ادا کردہ نماز باطل ہے، اس سے کسی قسم کے ثواب کی امید نہ رکھی جائے یعنی وہ نوافل میں بھی تبدیل نہیں ہو گی۔ مسافر امام کے پیچھے نماز سوال: ہمارے ہاں مسجد میں اگر کوئی عالمِ دین آ جائے تو امام مسجد اس کے احترام میں اسے نماز پڑھانے کے متعلق کہہ [1] مسند امام احمد،ص۲۸۶،ج۵۔ [2] صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین:۱۰۰۷۔ [3] صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین:۷۴۷۔ [4] صحیح بخاری، الصلوٰۃ:۳۵۷۔ [5] ترمذی، الصلوٰۃ: ۴۷۳۔ [6] فتح الباری، ص۲۰،ج۲۔ [7] نسائی، الطھارۃ:۱۳۹۔