کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 95
ہے۔ [1] نابالغ بچے کی امامت سوال:کیا کم عمر بچوں کی امامت صحیح ہے؟ جبکہ وہ سن شعور کو پہنچ چکے ہوں۔ جواب:امامت کے لیے اس شخص کا انتخاب کیا جائے جو قرآن کریم کا حافظ ہو، اس کے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں، کم سن بچے کی امامت کے متعلق درج ذیل روایت بیان کی جا سکتی ہے۔ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حق لے کر آیا ہوں، آپ نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جو قرآن کا زیادہ عالم ہو۔ حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری قوم نے دیکھاکہ میرے سوا کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ قرآن کا عالم نہیں ہے تو انہوں نے مجھے جماعت کے لیے آگے کر دیا اس وقت میری عمر چھ یا سات برس تھی۔ [2] ناپسندیدہ امام کی امامت سوال:ہماری مسجد کے اکثر نمازی اپنے امام سے راضی اور خوش نہیں ہیں کیونکہ وہ جذباتی آدمی ہیں اور جذبات میں آکر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے؟ جواب:امام لوگوں کا ناپسندیدہ شخص نہیں ہوناچاہیے، حدیث میں ہے کہ تم ایسے لوگوں کو امامت کے لیے منتخب کرو جو تم میںمعزز اور بہترین ہوں۔ [3] اگرچہ اس روایت میںکچھ ضعف ہے لیکن اسے دیگر صحیح روایات کی تائید حاصل ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین آدمیوں کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے، پہلا وہ شخص جو امامت کے لیے کسی قوم کے آگے بڑھے جب کہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔‘‘ [4]حضرت عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا یہ بات کہی جاتی تھی کہ لوگوں میں سے جنہیں سخت عذاب سے دو چار کیا جائے گا وہ دو ہیں، ایک ایسی عورت جو اپنے خاوند کی نافرمان ہو اور دوسرا وہ امام جسے مقتدی ناپسند کرتے ہوں۔ [5] ان احادیث کے پیش نظر امام کو چاہیے کہ وہ خود بخود منصب امامت سے الگ ہو جائے اور اپنی عزت نفس اور خودداری کو مجروح نہ کرے۔ مقتدی حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے امام سے بلاوجہ ناراض نہ ہوں اور احسن انداز سے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں، آخر وہ بھی انسان ہے۔ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمی کوتاہی ضرور ہوتی ہے، اصلاح احوال کی کوشش کرنا چاہیے معمولی معمولی باتوں پر اس کی کردار کشی کرنا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) [1] نیل الاوطار،ص:۱۱،ج۲۔ 2 [2] صحیح بخاری، المغازی:۴۳۰۲۔ 3 [3] بیہقی،ص:۹۰،ج۳۔ [4] ترمذی، الصلوٰۃ:۳۶۰۔ [5] ترمذی، الصلوٰۃ: ۳۵۹۔