کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 93
مؤذن کا اذان پر اجرت لینا سوال:حدیث میں اذان دینے کی اجرت لینا ممنوع ہے، پھر مؤذن حضرات تنخواہ کیوں لیتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:بلاشبہ حدیث میں ہے کہ مؤذن کو اذان دینے پر اجرت نہیں لینی چاہیے چنانچہ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسے شخص کو مؤذن بناؤ جو اذان پر اجرت نہ لے۔‘‘ [1] لیکن حضرت ابوحمزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے جب اپنی اذان مکمل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ [2] اس کا مطلب یہ ہے کہ اجرت حرام اس وقت ہے جب مشروط ہو لیکن مانگے بغیر کچھ دیا جائے تو جائز ہے، لیکن ہمارے ہاں مؤذن صرف اذان دینے پر اجرت نہیں لیتے بلکہ مسجد کی نگرانی، اس کی صفائی اور دیگر کام بھی اس کے ذمے ہوتے ہیں گویا وہ چوبیس گھنٹے کا پابند ہے وہ اذان دینے کی تنخواہ نہیں لیتا بلکہ وقت دینے اور چوبیس گھنٹے پابند رہنے کی تنخواہ لیتا ہے۔ ہمارا رجحان یہ ہے کہ ایسا مؤذن مقرر کیا جائے جو اذان کہنے پر اجرت نہ لیتا ہو، جیسا کہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے لیکن اگر ایسا مؤذن میسر نہ ہو تو پھر اجرت پر مؤذن رکھنے میں چنداں حرج نہیں ہے، پھر ہمارے ہاں مؤذن صرف اذان ہی نہیں دیتے بلکہ اور بہت سے کام سر انجام دیتے ہیں، بہرحال اوقات نماز سے آگاہی کے لیے مؤذن کی تقرری انتہائی ضروری ہے اگر مؤذن کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے تو اس کے اجرت لینے پر کوئی حرج نہیں ہے، اگر صاحب حیثیت ہے تو اذان دینے پر اجرت لینا درست نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) حقہ نوشی کر کے مسجد میں آنے کی مذمّت سوال:کچھ لوگ تازہ تازہ حقہ نوشی کر کے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے آجاتے ہیں جب کہ ان کے منہ سے گندی ہوا آتی ہے ان کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ جواب:حقہ نوشی یا سگریٹ کا استعمال ویسے بھی منع ہے، کیونکہ اس میں بے شمار طبی اور معاشرتی نقصانات ہیں، خاص طور پر ان حضرات کا تازہ تازہ حقہ یا سگریٹ پی کر مسجد میں آنا جس سے دوسرے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہو، شرعاً اس کی ممانعت ہے۔ اشیاء خوردنی میں مولی یا لہسن کا استعمال جائز ہے لیکن اگر کوئی شخص انہیں استعمال کر کے مسجد میں آئے اور اس کے منہ کی ہوا سے دوسرے لوگوں کو تکلیف ہو تو شرعاً اس کی ممانعت ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کچا لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا فرمایا کہ وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔‘‘ [3] اس حدیث کے پیش نظر ہر اس چیز کو استعمال کر کے مسجد میں آنا منع ہے جو دوسروں کے لیے ناگواری کا باعث ہو، خواہ استعمال [1] ابوداود، الصلوٰۃ:۶۳۱۔ [2] مسند امام احمد،ص:۴۰۹،ج۳۔ [3] صحیح بخاری، الاعتصام:۷۳۵۹۔