کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 91
٭ دوران سجدہ قدموں کی ایڑیاں ملی ہوئی ہوں اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف اور قدم کھڑے ہوں۔[1] ٭ سجدے میں دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور ہوں، سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں نیز پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھا جائے۔ [2] ٭ سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ملا کر رکھا جائے، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنی انگلیاں ملا لیتے تھے۔ [3] ٭ سجدہ کرتے وقت پیشانی ننگی ہو ہاں بوقت ضرورت کپڑے وغیرہ پر سجدہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب گرمی کی وجہ سے زمین پر پیشانی رکھنا مشکل ہوتا تو ہم اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتے تھے۔ [4] مرد اور عورت کے سجدہ میں کوئی فرق نہیں ہے، جو لوگ اس میں فرق کرتے ہیں کہ عورت زمین سے چمٹ کر سجدہ کرے، ان کا مؤقف محل نظر ہے، کتاب و سنت میں اس تفریق کی کوئی دلیل نہیں ہے، عورت کو چاہیے کہ وہ مرد کی طرح مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق سجدہ کرے۔ (واللہ اعلم) نماز چاشت اور نماز اشراق میں فرق اور رکعات وغیرہ سوال:نماز چاشت اور نماز اشراق میں کیا فرق ہے اور اس کی کتنی رکعات ہیں اور انہیں کس وقت ادا کرنا چاہیے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی کریں۔ جواب:جو نماز طلوعِ آفتاب سے زوالِ آفتاب کے درمیان ادا کی جائے اسے صلوٰۃ ضحی کہتے ہیں، ہم اسے نماز چاشت یا اشراق بھی کہتے ہیں، اس کا ایک نام صلوٰۃ الاوابین بھی ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل حدیث سے لگایا جا سکتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے صبح صبح تمام جوڑوں کا صدقہ لازم ہے، سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمدللہ کہنا بھی صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا بھی صدقہ ہے، نیز اچھی بات کا حکم دینا اور برے کام سے منع کرنا بھی صدقہ ہے، ان تمام صدقات سے نماز چاشت کی دو رکعات کفایت کر جاتی ہیں۔‘‘ [5] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے خلیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی: ہر ماہ تین دنوں کے روزے رکھو، چاشت کی دو رکعت پڑھو اور سونے سے قبل نماز وتر ادا کرو۔ [6] اس نماز کی کم از کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چار رکعت پڑھنا مروی ہے۔ [7] اور حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعت ادا کی تھیں۔ [8] [1] مستدرک حاکم، ص:۲۲۸،ج۱؛ صحیح بخاری، الاذان:۸۲۸۔ [2] صحیح بخاری، الاذان:۸۲۸۔ [3] مستدرک حاکم، ص:۲۴۴،ج۱۔ [4] بخاری، الصلوٰۃ:۳۸۵۔ [5] صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین: ۷۲۰۔ [6] صحیح بخاری الصوم:۱۹۸۱۔ [7] صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین:۷۱۹۔ [8] صحیح بخاری، الصلوٰۃ:۳۵۷۔