کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 89
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے متروکہ نماز ادا کی پھر سلام پھیرا، اس کے بعد اللہ اکبر کہا اور دو سجدے بطور سہو کیے۔ [1] جو رکعت ایک سجدہ کے ساتھ پڑھی گئی اور ایک سجدہ رہ گیا وہ رکعت نہیں ہے کیونکہ رکعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہوتے ہیں، یاد آنے پر پوری ایک رکعت کا اعادہ ضروری تھا، اس رکعت کو پڑھنے کے بعد پھر سجدے سہو کرنے تھے، نماز میں جو ایک سجدہ رہ گیا اس کی تلافی صرف سجدہ سہو سے نہیں ہو گی بلکہ پوری رکعت ادا کر کے سجدہ سہو کرنا چاہیے تھا۔ (واللہ اعلم) امام کا درمیانی تشہد بھول جانا سوال:اگر امام درمیانی تشہد بیٹھے بغیر کھڑا ہو جائے تو کیا مقتدیوں کو بھی کھڑا ہو جانا چاہیے یا وہ اپنا تشہد مکمل کر لیں اور اگر امام سیدھا کھڑا ہو کر پھر بیٹھ جائے تو اس صورت میں سجدہ سہو کرنا پڑے گا یا نہیں، نیز اگر امام آخری تشہد میں جلدی سلام پھیر دے تو کیا مقتدی حضرات بھی اس کے ساتھ سلام پھیر دیں یا وہ اپنا تشہد مکمل کر کے سلام پھیریں؟ جواب:اگر امام دو رکعت پڑھنے کے بعد تشہد پڑھے بغیر کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ (۱) بالکل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے اسے خود یاد آجائے یا مقتدیوں کے یاد دلانے پر وہ بیٹھ جاتا تو اس صورت میں کوئی سجدہ سہو نہیں ہے۔ (ب) اگر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے یاد آنے یا مقتدیوں کے یاد دلانے پر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اسی حالت میں نماز مکمل کر کے آخر میں دو سجدے سہو کے طور پر کرے، اس صورت میں مقتدی حضرات بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور آخر میں سجدہ سہو میں شریک ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ اگر امام دو رکعت میں بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہو جائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور اپنی نماز مکمل کر لے اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے تو یاد آنے پر مت بیٹھے بلکہ آخر میں دو سجدے سہو کے طور پر کر دے۔ [2] اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام ابوداؤد نے لکھا ہے کہ میری اس کتاب میں جابر جعفی سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے تاہم علامہ البانی مرحوم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اگر امام سیدھا کھڑا ہونے کے بعد پھر بیٹھ گیا ہے تو اس صورت میں بھی سجدہ سہو کرنا ہوں گے اور مقتدی بھی اس میں سجدہ سہو میں شریک ہوں گے۔ اگر امام نے اس قدر جلدی سلام پھیر دیا ہے کہ مقتدی حضرات تشہد اور درود نہیں پڑھ سکے تو انہیں تشہد اور درود پڑھ کر سلام پھیرنا چاہیے اور اگر انہوں نے تشہد اور درود پڑھ لیا ہے لیکن دیگر ادعیہ وغیرہ نہیں پڑھ سکے تو اس صورت میں مقتدی حضرات کو امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیے کیونکہ حدیث میں ہے: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔[3] پہلی صورت میں امام کے ساتھ ہی مقتدیوں کو سلام نہیں پھیرنا چاہیے کیونکہ ان کا تشہد مکمل نہیں ہوا تھا اور اس کا مکمل کرنا ضروری تھا جبکہ دوسری صورت میں مقتدی حضرات تشہد اور درود پڑھ چکے ہیں لہٰذا انہیں امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیے۔ (واللہ اعلم) [1] صحیح بخاری، الصلوٰۃ: ۴۸۲۔ [2] ابوداود، الصلوٰۃ:۱۰۳۶۔ [3] صحیح بخاری، الصلوٰۃ:۶۸۹۔