کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 86
ہمارا رجحان ہے کہ فرض نماز کے فوراً بعد اس جگہ سنت ادا نہ کی جائیں بلکہ کسی دوسرے نمازی سے گفتگو کر لی جائے یا اپنی جگہ بدل لی جائے۔ (واللہ اعلم) نماز قصر کے لیے کتنی مسافت ہو؟ سوال:تعلیم الاسلام نامی کتاب میں لکھا ہے کہ اڑتالیس میل سے کم مسافت پر نماز قصر پڑھنا جائز نہیں ہے، جبکہ اہل حدیث حضرات نو میل مسافت پر قصر کر لینے کے قائل ہیں، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔ جواب:اس موقف کی بنیاد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اہل مکہ! چار برید یعنی اڑتالیس میل سے کم مسافت پر قصر نہ کرو اور چار برید مکہ سے عسفان تک کا فاصلہ ہے۔ [1] اس حدیث سے ثابت کیا گیا ہے کہ اڑتالیس میل سے کم مسافت پر قصر کرنا جائز نہیں ہے لیکن مذکورہ حدیث کو محققین نے مرفوع نہیں بلکہ موقوف یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ [2] نیز اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد کو متروک قرار دیا گیا ہے۔[3] اس بناء پر یہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر کسی نے کم از کم نو میل کی مسافت پر کہیں جانا ہو تو اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے باہر نکل کر نماز قصر ادا کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین میل یا تین فرسخ سفر کے لیے نکلتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے۔ [4] اس روایت میں راویٔ حدیث شعبہ کو شک ہو اہے تاہم علماء نے تین فرسخ والی روایت کو احوط قرار دیا ہے اور ایک فرسخ تین میل کا ہوتا ہے اس طرح تین فرسخ نو میل کے ہوں گے، اس کی مزید وضاحت د وسری روایت میں ہے کہ راوی حدیث حضرت یحییٰ بن یزید ہنائی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کتنی مسافت پر نماز قصر کی جا سکتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ سفر کے لیے نکلتے تو دو رکعت نماز پرھتے تھے۔ [5] اس حدیث میں وضاحت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے سائل کو بطور جواب یہ حوالہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی مسافت پر قصر کرتے تھے، بہرحال اس سلسلہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر منزل مقصود نو میل٭ حجازی یا اس سے زائد مسافت پر ہے تو مسافر اپنے شہر یا گاؤں کی حدود تجاوز کرنے کے بعد نماز قصر پڑھ سکتا ہے۔ (واللہ اعلم) بے نماز خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا سوال میرا خاوند نماز نہیں پڑھتا، اسے بار بار کہتی ہوں لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، حتی کہ وہ عیدین کی نماز بھی پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، ایسے بے نماز کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟ کتاب و سنت کے مطابق فتویٰ دیں۔ [1] بیہقی،ص:۱۳۷،ج۳۔ [2] بلوغ المرام حدیث نمبر۲۴۹۔ [3] میزان الاعتدال،ص:۶۸۲،ج۲۔ [4] مسند امام احمد،ص:ں۱۳۶،ج۳۔ [5] صحیح مسلم،صلوٰۃ المسافرین:۶۹۱۔ ٭اس کی وضاحت ص:۹۸ پر آ رہی ہے۔