کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 77
سامنے بطور سترہ رکھ لیتے تھے‘ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اس کے ضعف کے لیے یہی کافی ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے میں ابن عساکر متفرد ہے۔ ویسے انہوں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ نمبر ۲۵۳۸ میں اس کی خوب وضاحت کی ہے، اگر یہ صحیح بھی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سترہ کے لیے استعمال کرتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سترہ بنانے کے لیے اور کوئی چیز نہ ملتی تھی اور سترہ ضروری ہے اور سر کا ڈھانپنا ضروری نہیں بلکہ افضل اور بہتر ہے۔ ہمارے نزدیک اس مسئلہ کے متعلق محتاط موقف یہ ہے کہ دوران نماز سر ننگا رکھنے کو معمول بنانا ناپسندیدہ عمل ہے۔ [1] (ب) محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہ نے ایک تہبند میں نماز پڑھی جسے انہوں نے اپنی گدی پر باندھا تھا اور ان کے باقی کپڑے لکڑی پر رکھے تھے، کسی نے ان سے کہا تم اپنے کپڑے ہوتے ہوئے ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہو تو انہوں نے جواب دیا تاکہ تیرے جیسا بے وقوف اور جاہل مجھے دیکھ لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگوں میں سے کس کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے ۔[2] اس حدیث کے متعلق ہماری درج ذیل گزارشات ہیں: (الف) اس حدیث میں سر کے متعلق کوئی وضاحت نہیں ہے آیا سر پر کوئی چیز تھی یا نہیں۔ سر کے متعلق دوسری احادیث کی طرف رجوع کرنا ہو گا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول بیان ہوا ہے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔ (ب) اگر تسلیم کر لیا جائے کہ سر پر واقعی کوئی چیز نہ تھی تو یہ ایک اضطراری حالت ہو سکتی ہے جیسا کہ حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں واقعی کپڑوں کی قلت تھی لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وسعت دی گئی تو انہوں نے عمامے اور ٹوپیوں کا استعمال کیا۔ (ج) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کپڑے پاس ہوتے ہوئے صرف ایک کپڑے میں نماز ادا کی، ان کا یہ معمول روزمرہ کا نہیں تھا جیسا کہ ہمارے ہاں دیکھنے میں آتا ہے اگر روزانہ ایسا ہوتا تو سائل کو سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ (د) حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کام عمداً اس لیے کیا، تاکہ ناوقف لوگوں پر واضح ہو جائے کہ صرف ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے اگرچہ سر ننگاہ ہی رہے۔ (ھ) جو حضرات اس حدیث کے پیش نظر ننگے سر نماز پڑھنے پر اصرار کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس حدیث پر عمل نہیں کرتا کہ ایک کپڑا پہن کی نماز ادا کرتا ہو جبکہ آج یہ بات ممکن نہیں ہے تو پھر اس پر اصرار کرنا چہ معنی دارد، یہ نزلہ صرف ٹوپی یا رومال پر ہی کیوں گرتا ہے؟ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ گھر سے قمیص، شلوار، کوٹ وغیرہ پہن کر آتے ہیں اور مسجد میں داخل ہونے کے بعد صرف پگڑی، ٹوپی یا رومال اتار کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ ننگے سر عبادت کرنا عیسائیوں کا شعار ہے، اس لیے ہمیں ان کی مخالفت کا حکم ہے، ہمارے [1] تمام المنہ،ص:۱۶۴۔ [2] صحیح بخاری، الصلوٰۃ: ۳۵۲۔