کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 70
کیا حیثیت ہے؟ جواب:وضو کرتے وقت گردن کا مسح کرنے کے متعلق کوئی صحیح حدیث کتب حدیث میں مروی نہیں ہے، جن احادیث میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان ہوا ہے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ گردن کا مسح نہیں کرتے تھے، البتہ بعض ضعیف احادیث میں گردن کے مسح کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً: 1 ) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن کا مسح کیا تھا۔ [1] اس روایت میں محمد بن حجر، سعید بن عبدالجبار اور ام عبدالجبار تینوں راوی ضعیف ہیں۔ 2) ایک حدیث میں ہے کہ گردن کا مسح کرنا طوق سے امان کا باعث ہے۔ امام ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ خبر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے معروف نہیں ہے البتہ بعض اسلاف نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [2] امام نووی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں: یہ موضوع ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں۔ بہرحال ہمارے رجحان کے مطابق دوران وضو گردن کا مسح صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہے خاص طور پر الٹے ہاتھوں سے گردن پر مسح کرنا تو اس کے متعلق تو کوئی ضعیف حدیث بھی مروی نہیں ہے لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (واﷲ اعلم) مستحاضہ کی نماز سوال :مجھے اپنے مخصوص ایام میں سرخ رنگ کا خون آتا ہے اور ہفتہ بھر جاری رہتا ہے، کبھی کبھار یہ خون عادت کے ایام سے بڑھ جاتا ہے، میں ہفتہ بھر نماز ادا نہیں کرتی۔ جب عادت کے ایام سے بڑھ جاتا ہے تو غسل کر کے نماز پڑھ لیتی ہوں کیا میرا یہ عمل صحیح ہے یا جب تک خون جاری رہے نماز نہ پڑھوں؟ جواب:ایام کے علاوہ جو خون آتا ہے اسے استحاضہ کہا جاتا ہے اس کی حسب ذیل دو صورتیں ہیں: 1) عورت کو ہمیشہ خون آتا رہے اور وہ کسی دن بھی بند نہ ہو جیسا کہ حضرت فاطمہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہا تھا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے استحاضہ آتا ہے اور میں کبھی پاک نہیں ہوتی ہوں۔ [3] 2) عورت کو ہمیشہ خون نہ آئے بلکہ ایام کے علاوہ دوسرے کچھ دنوں میں بھی آتا ہو اور کبھی منقطع بھی ہو جاتا ہو جیسا کہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہا تھا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بکثرت بڑی شدت سے خون آتا ہے۔ [4] پھر حیض اور استحاضہ میں حسب ذیل تین طریقوں سے شناخت ہو سکتی ہے۔ (الف) عادت: عورتوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایام کب شروع ہوتے ہیں اور کب انتہا کو پہنچتے ہیں اس طرح کی عورت کو معتادہ کہا جاتا ہے، ایام حیض کے علاوہ دوسرے دن استحاضہ کے شمار ہوں گے۔ (ب) تمییز: اگر عادت پختہ نہ ہو تو ایام حیض کی پہچان تمییز سے ہو سکتی ہے اور اس کی بنیاد تین چیزیں ہیں۔ [1] کشف الاستار، ص: ۱۴۰، ج۱۔ [2] نیل الاوطار، ص: ۲۰۳ ،ج۱۔ [3] صحیح بخاری، الحیض: ۳۰۶۔ [4] ابو داود، الطہارۃ: ۲۸۷۔