کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 64
کہ وہ جرابیں کس طرح کی ہوں؟ جواب:عام طور پر جرابوں کے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ سردی وغیرہ سے بچاؤ کا کام دیں اور دوسرے یہ کہ گردو غبار سے پاؤں کو محفوظ رکھیں، جب تک جراب اس طرح کے دو فائدے دیتی ہے تو اس پر مسح کیا جا سکتا ہے۔ اگر جراب اس قدر پھٹی ہوئی ہے کہ اسے پہن کر نہ سردی کا بچاؤ ہوتا ہے اور نہ ہی گردوغبار سے پاؤں محفوظ رہتا ہے تو ایسی جراب پر مسح نہیں کرنا چاہیے، اس کے موٹے ہونے کے متعلق فقہ کی کتابوں میں جو معیار قائم کیا گیا ہے وہ ایجاد شدہ اور خود ساختہ ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ جرابوں پر مسح کرنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہے، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنے جوتوں اور جرابوں پر مسح کیا۔ [1] کبار صحابہ جیسے حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداﷲ بن مسعود اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے جرابوں پر مسح کرنا احادیث سے ثابت ہے، جب یہ عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلند مرتبہ صحابہ کرام سے ثابت ہے تو پھر جرابوں پر مسح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ واضح رہے کہ مقیم آدمی کے لیے ایک دن اور ایک رات جب کہ مسافر انسان کے لیے تین دن اور تین رات تک مسح کرنے کی اجازت ہے، اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وضو کرنے کے بعد جرابوں کو پہنا جائے اور جب وضو ٹوٹ جائے تو مسح کی مدت کا آغاز ہو جاتا ہے یعنی وضو کرنے کے بعد پاؤں دھونے کے بجائے ان پر مسح کر لیا جائے۔ (واﷲ اعلم) حیض کی حالت میں بیوی کے پاس جانا سوال:اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس حیض کی حالت میں جائے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ وہ شخص متعد مرتبہ یہ کام کر چکا ہے، اس کے متعلق قرآن وحدیث میں کیا حکم ہے؟ جواب:حالت حیض میں بیوی کے پاس جانا شرعاً ممنوع ہے، ارشادباری تعالیٰ ہے: ﴿وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ هُوَ اَذًى ١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ١ۚ ﴾[2] ’’لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ وہ ایک گندگی ہے، لہٰذا حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔‘‘ ’’الگ رہو‘‘ اور ’’قریب نہ جاؤ‘‘ ان سے مراد مجامعت کی ممانعت ہے، اگر کوئی اس حالت میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے تو وہ شریعت کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کی تلافی کفارہ ادا کرنے سے ہو سکتی ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرتا ہے اسے ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا چاہیے۔‘‘ [3] امام ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحیح روایت ایسے ہی ہے کہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے یعنی اس میں اختیار دیا گیا ہے [1] ابو داود، الطہارۃ: ۱۵۹۔ [2] ۲/البقرہ: ۲۲۲۔ [3] ابو داود، الطہارۃ: ۲۶۴۔