کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 510
کے متعلق فقہاء احناف نے حسب ذیل وضاحت کی ہے۔ اس کے سامنے گوشت اور چارہ ڈالا جائے، اگروہ گوشت کھائے تو اس کا گوشت حرام ہے کیونکہ بنیادی طور پر وہ کتا ہے اگر وہ چارہ کھائے تو ذبح کرنے کے بعد اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے اور باقی گوشت استعمال کر لیا جائے کیونکہ وہ بنیادی طور پر بکرا ہے اور اگر وہ چارہ اور گوشت دونوں کھائے تو پھر اسے مارا جائے، اگر بھونکتا ہے تو اس کا گوشت استعمال کے قابل نہیں کیونکہ وہ کتا ہے اور اگر وہ بکری کی طرح ممیاتا ہے تو ذبح کر کے اس کا سر پھینک دیاجائے اور باقی حصہ کھا لیا جائے کیونکہ وہ بنیادی طور پر بکرا ہے۔ اگر مارنے سے دونوں قسم کی آوازیں برآمد ہوں تو اس کا پیٹ چاک کیا جائے اگر اس سے اوجھڑی نکلے تو اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے اور باقی حصہ قابل استعمال ہے اور اوجھڑی کی بجائے صرف انتڑیاں ہی برآمد ہوں تو وہ کتا ہے اور اسے استعمال نہ کیا جائے۔ [1] ہم اس فتویٰ پر اپنی طرف سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، صرف اتنا کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ دنیا میں کبھی ایسا ہوا ہے ؟ کیا ایسا ہونا عادتاً ممکن ہے؟ کیا اس سائنسی دور میں اس قسم کے مفروضوں سے اسلام اور اہل اسلام کے متعلق لوگ کیا کہیں گے؟ دراصل اس قسم کے بیسوں مسائل ایسے ہیں جنہوں نے اسلامی شریعت کو اغیار کی نظر میں بدنام کر ڈالا ہے۔ سوال میں ذکر کردہ صورت بھی اس قسم کی معلوم ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ کسی نے مذکورہ فتویٰ پڑھ کر گائے اور خنزیر کے ملاپ کا افسانہ تراش لیا ہو۔ ہمارے ہاں بکریوں کی ایک قسم ہرن سے ملتی جلتی ہے، اس کےسینگ، سر، منہ اور آنکھیں بالکل ہرن جیسی ہوتی ہیں، اس کے متعلق بھی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جنس بکری ہرن کے ملاپ کا نتیجہ ہے، اس طرح برائلر مرغی کے متعلق مشہور ہے کہ اس کی پیدائش باپ کے بغیر ہوتی ہے لہٰذا اس کا گوشت جائز نہیں ہے، یہ بھی محض ایک مفروضہ ہے، جہاں مرغی فارم ہیں وہاں مرغ بھی رکھے ہوتے ہیں، وہ مرغیاں جو انڈے دیتی ہیں ان کے بچے نکالے جاتے ہیں لیکن وہ بچے مشینی ہوتے ہیں اگرچہ وہ اکیس دن کے بعد ہی نکلتے ہیں تاہم وہ مرغیوں کے محتاج نہیں ہوتے، ان بچوں کو ایک خاص طریقہ سے نر اور مادہ کی چھانٹی کی جاتی ہے جو مرغ ہوتے ہیں انہیں برائلر کے طور پر مارکیٹ میں لایا جاتا ہے اور مرغیوں کو انڈوں کے لیے رکھا جاتا ہے، ان کو کیمیاوی غذا کھلا کر انڈے حاصل کیے جاتے ہیں، ان انڈوں سے بچے نہیں نکلتے کیونکہ یہ انڈے صرف غذا سے حاصل کیے جاتے ہیں، ان میں مرغ کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، جو مرغی انڈے دے دے کر تھک جائے پھر انڈے نہ دے اور غذا زیادہ کھائے اسے لیر کے نام سے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، اس کا گوشت برائلر کے مقابلہ میں سستا ہے، بہرحال برائلر گوشت کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، اگر کسی کا دل نہ کرے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ بہرحال صورت مسؤلہ کے متعلق ہمارا مؤقف یہ ہے کہ آسٹریلین گائے جو دودھ بہت دیتی ہے، اس میں خنزیر کا کوئی حصہ نہیں ہے، اور نہ ہی خنزیر کے ملاپ سے یہ پیدا ہوئی ہے اور ایسا ہونا ممکن نہیں ہے جب کہ ہم نے واضح کہا ہے، جنس کو آگے چلانے کے لیے کروموسوم کی تعداد، شکل و صورت اور ان کی ترتیب میں یکسانیت ہونا ضروری ہے، گائے اور خنزیر میں ایسا ہونا ناممکن ہے، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ روایات بھی ہیں جو آپ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمائیں تھی، جنہیں ہم نے شرح بخاری میں تفصیل سے بیان کیا ہے جو آج کل آخری مراحل میں ہے، قارئین کرام سے اپیل ہے کہ وہ اس کی تکمیل کے لیے ضرور دعا کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ [1] فتاویٰ قاضی خاں برحاشیہ عالمگیری،ص: ۵۳۷،ج۳۔