کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 508
گائے دودھ بہت دیتی ہے، اس لیے عوام الناس میں کافی مقبول ہو رہی ہے، کیا یہ حقیقت پر مبنی ہے اگر صحیح ہے تو کیا اس طرح کے جانور کا دودھ اور گوشت حلال ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جوا ب دیں۔ جواب:اگرچہ اس سوال کا تعلق جدید سائنس سے ہے، کتاب و سنت سے نہیں، ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ جو حضرات کتاب و سنت کے حاملین ہیں وہ جدید سائنس سے بے بہرہ اور ماہرین سائنس کتاب و سنت سے عاری ہوتے ہیں، راقم الحروف بھی قرآن و حدیث کا طالب علم ہے۔ جدید سائنس کے متعلق معمولی سی معلومات رکھتا ہے تاہم اس سوال کے حوالہ سے میں نے محکمہ لائیوسٹاک کے عملہ سے رابطہ کیا۔ ماہرین سائنس سے بھی معلومات حاصل کی ہیں، ان معلومات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کو جوڑا جوڑا پیدا کیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴾[1] ’’اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کر دئیے ہیں شاید تم سبق حاصل کرو۔‘‘ اس آیت کے کئی ایک مفہوم بیان کیے جاتے ہیں، ہمارے رجحان کے مطابق درج ذیل مفہوم قرین قیاس ہے۔ زوجین سے مراد نر اور مادہ ہے، ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے، جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے، نباتات میں بھی یہ سلسلہ قائم ہے، بار برداری ہوائیں نر درختوں کا تخم مادہ درختوں پر ڈال دیتی ہیں تو انہیں پھل لگتا ہے، جس علاقے میں کھجوریں زیادہ ہوتی ہیں وہاں کے باشندے خود نر کھجوروں کا تخم مادہ کھجوروں پر ڈال دیتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے موقع پر اہل مدینہ کھجوروں پر یہی عمل کرتے تھے، جس سے آپ نے منع فرمایا تو اگلے سال پھل بہت کم ہوا۔ اس کے بعد آپ نے اس کی اجازت دے دی، شرعی اصطلاح میں اس عمل کو ’’تأبیر نخل‘‘ کہا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی مقام پر تن تنہا درخت پھل نہیں لاتا۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ سلسلہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔ بجلی کا نیوٹل اور فیس ہونا، ایک حقیر ذرہ میں الیکٹرون اور پروٹون کا مثبت اور منفی ہونا انسان کے علم میں آچکا ہے۔ جمادات تو کیا کائنات کی ہر چیز ذرات ہی کا مجموعہ ہوتی ہے، اس نر و مادہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ چلایا کہ ان دونوں نر و مادہ کے ملاپ سے ایک تیسری چیز وجود میں آتی ہے، جس میں اصل نر و مادہ کے خواص موجود ہوتے ہیں۔ اسے سائنسی اصطلاح میں اس طرح تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر جاندار کی نسل باقی رکھنے اور اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کا ایک نظام بنا رکھا ہے، اس نے ہر جاندار میں جرثومے پیدا کیے ہیں جنہیں کروموسوم کہا جاتا ہے پھر ہر جنس میں کروموسوم کی تعداد، شکل و صورت اور ان کی ترتیب مختلف ہے مثلاً انسان کے اندر چھیالیس کروموسوم ہیں جن کے تئیس (۲۳)جوڑے بنتے ہیں، جنسی ملاپ کی صورت میں بائیس جوڑے جسم کی نشوونما کے لیے اور تیئسواں جوڑا افزائش نسل کے لیے ہوتا ہے، قرآن کریم نے نطفہ امشاج سے انسان کو آگے چلایا ہے، اگر ان کی تعداد، شکل و صورت اور ترتیب میں فرق ہو جائے تو کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی، اگر پیدا ہو جائے تو وہ افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتی، ہمارے ہاں اس کی مثال گدھے اور [1] ۵۱/الذریات: ۴۹۔