کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 482
دے دے اس کا کیا حکم ہے؟‘‘ [1] پھر انہوں نے ایک طویل حدیث پیش کی ہے، جس میں وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوس بنا کر روانہ کیا اور ان کے امیر حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا۔ عسفان اور مکہ کے درمیان بنو لحیان نے ان کا گھیراؤ کر لیا اور انہیں امان دینے کا وعدہ کیا بشرطیکہ وہ خود کو دشمن کے حوالے کر دیں حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے گرفتاری دینے کے بجائے اپنی جان کا نذرانہ دینے کو ترجیح دی، اس طرح سات آدمی شہید ہو گئے جبکہ حضرت خبیب، ابن دثنہ اور عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ [2] اسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ثابت کیا ہے کہ بوقت ضرورت گرفتاری پیش کی جا سکتی ہے لیکن خود کشی کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی کمزور آدمی ہمارے ساتھ روانہ نہ ہو۔‘‘ ان میں ایک آدمی کمزور سواری پر نکلا اور اس سے گر کر مر گیا لوگوں نے کہا یہ شہید ہے، یہ شہید ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ ’’اعلان کر دو جنت میں نافرمان آدمی داخل نہیں ہو گا۔‘‘[3] ان تصریحات کے پیشِ نظر کسی خاتون کا عزت و ناموس بچانے کے لیے خود کشی کرنا محل نظر ہے۔ داڑھی مونڈھنے والے حجام کو دوکان کرایہ پردینا سوال:شیو (داڑھی مونڈھنا) کی کمائی اور اس کے لیے دوکان کرایہ پر دینا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ جواب:داڑھی مونڈھنا حرام ہے اور اس پر اجرت لینا بھی ناجائز ہے، کیونکہ جو اعمال حرام ہوتے ہیں، ان پر اجرت لینا بھی حرام ہے، شراب نوشی حرام ہے، اسے کشید کرنے کی اجرت لینا بھی حرام ہے، اسی طرح حرام کام کے لیے دکان کرایہ پر دینا بھی شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے حرام کام میں تعاون کرنا ہے قرآن کریم میں ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ ﴾[4] ’’گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔‘‘ لہٰذا شیو کے لیے دکان کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے جیسا کہ بینک کو دکان کرایہ پر دینا جائز نہیں۔‘‘ (واللہ اعلم) زچگی میں وفات پا جانا سوال:ایک عورت بچے کی پیدائش کے موقع پر دورانِ آپریشن فوت ہو جاتی ہے، کیا اسے بھی شہادت کا رتبہ ملے گا اگرچہ اس کی موت ڈاکٹر کی کوتاہی سے واقع ہوئی ہو؟ جواب:دوران زچگی فوت ہونے والی عورت کو شہداء میں شمار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ [1] کتاب الجہاد، باب نمبر:۱۶۹۔ [2] صحیح بخاری، الجہاد: ۳۰۴۵۔ [3] فتح الباری، ص: ۱۱۱،ج۶۔ [4] ۵/المائدۃ:۲۔