کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 480
سکھ اور بدھ مت وغیرہ ان کا ذبیحہ حرام ہے البتہ وہ اہل کتب جو سماوی شریعت کے قائل ہیں قرآنی صراحت کے مطابق ان کا ذبیحہ جائز قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ طَعَامُ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ ﴾[1] ’’اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے جائز ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں کھانے سے مراد ذبیحہ ہے لیکن اس کے لیے بھی شرط ہے کہ حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے، نزول قرآن کے وقت اہل کتاب کی دو اقسام میں شرک پایا جاتا تھا جیسا کہ قرآن میں ہے کہ یہودی حضرت عزیر علیہ السلام اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے، اس کے باوجود ان کے ذبیحہ کو مشروط طور پر ہمارے لیے حلال قرار دیا گیا ہے، اسی طرح دور حاضر کے مسلمان جو معیاری نہیں ہیں البتہ کلمہ گو، نماز و روزہ کے قائل و فاعل ہیں، اگر بظاہر کوئی شرکیہ کام کریں تو ان کا ذبح کردہ جانور حرام نہیں ہو گا، ہاں اگر وہ شرک و بدعت کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوں۔ ضد اور ہٹ دھرم کے طور پر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے ذبیحہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اگر کسی انسان میں شرک کے اسباب موجود ہوں تو اسے مشرک قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کوئی موانع نہ ہوں، اگر اسباب کے ساتھ کوئی رکاوٹ یا مانع موجود ہو تو انہیں مشرک نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم نے اپنی تالیف ’’مسئلہ ایمان و کفر‘‘ میں کی ہے، مکتبہ اسلامیہ سے اسے حاصل کر کے اس کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ یتیمی کی مدت سوال:اگر کسی کا والد فو ت ہو جائے تو وہ کس وقت تک یتیم رہتا ہے، شریعت نے اس کی کیا حد مقرر کی ہے؟کتاب و سنت سے اس کی وضاحت کریں۔ جواب:اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ہے۔ (بیہقی، ص: ۳۲۰،ج۷) امام ابوداؤد نے اس پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔ ’’یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے اس وقت تک یتیم رہتے ہیں، جب تک وہ بالغ نہ ہوں، اگر بالغ ہو جائیں تو شرعاً یہ حالت ختم ہو جاتی ہے اب یہ سوال کہ انسان بالغ کب ہوتا ہے؟ مختلف احادیث کے پیش نظر اس کی تین علامتیں ہیں: 1) بچے کو احتلام آجائے یا بچی حالتِ حیض سے دوچار ہو جائے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے۔ 2) جب بچے یا بچی کی عمر پندرہ سال ہو جائے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوۂ احد کے دن چودہ چودہ سال کے تھے تو انہیں جنگ میں شرکت کی اجازت نہ ملی تھی لیکن آیندہ سال جب وہ پندرہ برس کے ہوئے تو غزوۂ خندق میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ [2] [1] ۵/المائدۃ:۵۔ [2] بخاری، المغازی: ۹۷۴۰۔