کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 474
ہے تو اللہ کے ہاں اس کی یہ حیثیت ہے کہ معمولی سی مالیت چوری کرنے پر اسے کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے، اس کے برعکس جب ہاتھ بے گناہ اور معصوم ہو گا تو اس کی قیمت اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ایک انگشت کی دیت دس اونٹ ہیں یعنی اگر کسی نے ایک انگلی ضائع کر دی ہے تو اسے دس اونٹ بطور دیت دینا ہوں گے۔ [1] فحاشی کی اشاعت کے لیے مکان کرایہ پر دینا سوال:ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار کرنے والوں کو اپنی دکان کرایہ پر دیناجائز ہے یا نہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:دور حاضر میں ٹی وی، وی سی آر اور سی ڈی وغیرہ کو فحش کاری اور بے حیائی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، قرآن کریم نے بے حیائی پھیلانے والوں کا سخت نوٹس لیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ١ۙ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾ [2] ’’یقیناً وہ لوگ جو مسلم معاشرہ میں بے حیائی پھیلانے کو پسند کرتے ہیں ان کے لیے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ہو۔‘‘ مذکورہ آیت میں فاحشہ سے مراد ہر وہ کام ہے جو انسان کو شہوانی خواہش میں تحریک پیدا کرنے کا سبب ہو، آج کل فحاشی کی اشاعت بہت وسیع پیمانے پر ہو رہی ہے، اس میں تھیڑ، سینما گھر، کلب ہاؤس، ویڈیو، ٹی وی پر شہوت انگیز اور زہد شکن گانے، اسی طرح فحاشی پھیلانے والا لٹریچر، ناول، افسانے،بسوں میں نصب وی سی آر، اخبارات و اشتہارات میں عورتوں کی عریاں تصاویر، ناچ گانے کی محفلیں اور ہوٹلوں کے پرائیویٹ کمرے فحاشی پھیلانے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح بعض اداروں نے نوجوان لڑکیوں کو سیل مین کے طور پر ملازم رکھا ہوتا ہے تاکہ مردوں کے لیے وہ باعث کشش ہوں اور ان کے کاروبار کو فروغ حاصل ہو، الغرض سوال میں مذکور ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار شرعاً ممنوع ہے کیونکہ یہ سب بے حیائی، عریانی اور فحاشی پھیلانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، فحاشی کی یہ تمام اقسام قابل دست اندازیٔ پولیس ہیں، اس طرح کا کاروبار کرنے والوں کو اپنی دکان کرایہ پر دینا حرام کام میں تعاون کی وجہ سے ناجائز ہے قرآن کریم میں ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١۪ ﴾ [3] ’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، گناہ اور سر کشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو۔‘‘ اس آیت کریمہ کے پیش نظر ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار کرنے والوں کو اپنی دکان کرایہ پر نہیں دینی چاہیے او رنہ ہی [1] جامع ترمذی، الدیات: ۱۳۹۱۔ [2] ۲۴/النور:۱۹۔ [3] ۵/المائدہ:۲۔