کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 473
جبکہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد کے نطفہ میں جو کروڑوں کیڑے متحرک ہیں جس سے اس عالم رنگ و بو کی تمام عورتوں کو بار آور کیا جا سکتا ہے، اس نطفہ کے ساتھ انسانی زندگی کو کیوں نہ منسلک کیا جائے، جدید سائنسی آلات مائیکرو سکوپ اور الٹرا ساؤنڈ مشین کی ایجاد نے ماہرین طب کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ ان کی مدد سے رحم مادر میں نشو و نما پانے والے جنین کے متعلق معلومات حاصل کر سکیں لیکن ان تمام تر انکشافات کے باوجود ان حضرات کے لیے یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ جنین میں روح کب پھونکی جاتی ہے؟ تاہم قرآن کریم اور احادیث نے اس سر بستہ راز کو آج سے چودہ سو سال قبل ہی ظاہر کر دیا تھا، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم نے انسان کو ایک منتخب مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے اسے نطفے کی شکل میں ایک ساکن جگہ میں رکھا پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو جما ہوا خون بنا دیا پھر جمے ہوئے لہو سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں کو گوشت کا لباس پہنایا پھر اس کو ایک نئی صورت میں لا کھڑا کیا۔‘‘[1] اس آیت کریمہ میں گوشت اور ہڈیوں کے مرحلہ کے بعد نشأکا مرحلہ بیان ہوا ہے جس کے لیے حرف ’’ثم‘‘ استعمال کیا گیا ہے، یہی وہ وقفہ ہے جس میں جنین کے اندر روح پھونکی جاتی ہے حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے۔ ’’تمہاری پیدائش کا سلسلہ یوں ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ ٹھہرتا ہے پھر وہ خون کا ٹکڑا بنتا ہے، چالیس دن اس حالت میں رہتا ہے پھر وہ گوشت کا ٹکڑا بنتا ہے اور چالیس دن اس حالت میں رہتا ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔‘‘ [2] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنین میں روح پھونکنے کا مرحلہ 120دن یعنی چار ماہ کے بعد ہے (واللہ اعلم) ربع دینار چوری پر ہاتھ کاٹنا سوال:حدیث میں ہے کہ ربع دینا رکی مالیت پر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائے گا، موجودہ حساب سے ربع دینار کتنی مالیت کا ہے؟ جواب:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چور کا ہاتھ صرف ربع دینار یا اس سے زیادہ مالیت چوری کرنے پر کاٹا جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ اس وقت ربع دینار تین درہم کے برابر تھا۔[3]سونے کے نصاب سے متعلق روایات سے پتہ چلتا ہے کہ دینار، مثقال کے برابر ہوتا تھا، موجودہ نظام کے مطابق ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کے مساوی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دینار کا وزن بھی ساڑھے چار ماشہ ہے اس حساب سے ربع دینار 1.125 ماشہ کا ہو گا، اعشاری نظام کے مطابق 3 تولہ کے 35 گرام ہوتے ہیں جبکہ تین تولہ 36 ماشہ کے مساوی ہے۔ اس اعتبار سے گرام اور ماشہ میں معمولی سا فرق ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق ایک گرام سونا یا اس کی مالیت کے برابر چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جب ہاتھ سے جرم کیا [1] ۲۳/المومنون:۱۲۔۱۴۔ [2] صحیح بخاری، التوحید: ۴۵۴۷۔ [3] مسند امام احمد،ص: ۸۰،ج۶۔