کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 462
مرد کا عورت کے پیچھے نماز پڑھنا سوال:حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک بوڑھا مؤذن مقرر کیا تھا اور آپ اپنے گھر کے جملہ افراد کی امامت کرواتی تھیں، اس سے عورتوں کا مردوں کی جماعت کرانا ثابت کیا جاتا ہے، اس مسئلہ کی وضاحت کریں؟ جواب:مذکورہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے ان کے گھر جاتے تھے اور اذان دینے کے لیے آپ نے ایک مؤذن مقرر کیا تھا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ اپنے اہل خانہ کی امامت کرا دیا کریں۔ [1] اس حدیث سے عورتوں کا مردوں کی امامت کرانا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ دوسری حدیث میں اس امر کی وضاحت ہے کہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر اور محلے دار عورتوں کی امامت کراتی تھیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے: ’’بلاشبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی کہ ان کے لیے اذان اور اقامت کہی جائے تاکہ وہ اپنے گھر اورمحلے والی عورتوںکی امامت کریں۔[2] اس حدیث پر امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’فرض نماز میں عورت کا عورتوں کی امامت کرانے کا بیان‘‘[3]اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے ان کا مؤذن نماز نہیں پڑھتا تھا وہ صرف اذان دینے پر متعین تھا۔ (واﷲ اعلم) عورت کا آمدنی سے بڑھ کر مطالبہ کرنا سوال:میری بیوی، دوسری عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے ایسی چیزوں کامطالبہ کرتی ہے جسے میں پورا نہیں کر سکتا، کیونکہ میری آمدنی کے ذرائع انتہائی محدود ہیں، اس سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ قرآن وحدیث کے مطابق میری الجھن کو حل کریں۔ جواب: اس میںکوئی شک نہیں کہ بیوی کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم پر معروف طریقہ سے ان عورتوں کو کھلانا پلانا اور انہیں لباس مہیا کرنا لازم ہے۔‘‘[4] ایک دوسری حدیث میں حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خبردار! عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ انہیں لباس مہیا کرنے اور انہیں کھانا مہیا کرنے میں تم ان سے اچھا سلوک کرو۔‘‘ [5] لیکن اخراجات کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے کیونکہ کسی عورت کو زیادہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کو کم، اسی طرح کوئی عورت دن میں دوبار کھانا کھاتی ہے اور کوئی تین بار کھانا کھانے کی عادت ہوتی ہے، کسی کا علاج سستی ادویات سے ہو جاتا ہے اور کسی کو مہنگے علاج کی ضرورت ہوتی ہے، البتہ یہ بات اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ اس سلسلہ میں خاوند کی حیثیت کو ضرور مدنظر رکھا [1] ابو داود، الصلوٰۃ: ۵۹۲۔ [2] دارقطنی، ص: ۲۷۹، ج۱۔ [3] صحیح ابن خزیمہ، ص: ۸۹، ج۳۔ [4] صحیح مسلم، الحج: ۱۲۱۸۔ [5] ترمذی، الرضاع: ۱۱۶۳۔