کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 451
عورتیں، باجماعت نماز ادا کر سکتی ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بزرگ خاتون حضرت ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا کو اس امر کی اجازت دی تھی، کیونکہ یہ خاتون قرآن کریم کی حافظہ تھی، حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔[1]رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بہت بوڑھا موذن مقرر کیا تھا اور حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرایا کرے۔[2] گھر والوں میں مرد حضرات شامل نہیں ہیں کیونکہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ’’وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کرے۔‘‘ [3] ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی تھی کہ ان کے لیے اذان کہی جائے اور وہ اپنے اہل خانہ کی فرض نماز میں امامت کرائیں کیونکہ وہ حافظہ قرآن تھیں۔[4] جب عورت جماعت کرائے تو وہ آگے کھڑی ہونے کے بجائے عورتوں کے درمیان کھڑی ہو جیسا کہ حضرت حجیرۃ بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو وہ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔[5] بہرحال عورت اگر امامت کی اہلیت رکھتی ہے یعنی اسے قرآن مجید یاد ہے تو وہ عورتوں کی امامت کرا سکتی ہے اور جماعت کراتے وقت وہ عورتوں کے درمیان میں کھڑی ہو گی اور فرض اور نفل دونوں کی جماعت کرا سکتی ہے۔ گھر کے خاص راز فاش کرنا سوال :میری بیوی گھر کی خاص باتیں اپنی سہیلیوں کو بتاتی ہے، میں نے اسے سمجھایا ہے لیکن وہ باز نہیں آتی اس کے متعلق شرعی ہدایت کیا ہیں، اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جواب :کچھ مردوں اور عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کی خاص باتیں باہر نشر کرتے ہیں۔ مرد حضرات اپنے دوستوں کو اور خواتین اپنی سہیلیوں کو بتاتی ہیں، حالانکہ کوئی بھی غیرت مند مرد یا عورت ان باتوں کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا، یہ ایسا حرام کام ہے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ ﴾[6] ’’نیک عورتیں وہ ہیں جو فرمانبردار ہوں اور ان کی عدم موجودگی میں اﷲ کی حفاظت ونگرانی میں ان کے حقوق کی نگرانی کرنے والے ہوں۔‘‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ غائبانہ طور پر خاوند کے حقوق کی نگہداشت کرنا فرمانبردار بیوی کی امتیازی علامت ہے اور جو بیوی گھر کے راز اپنی سہیلیوں سے کہتی ہے وہ اپنے خاوند کے حقوق میں خیانت کا ارتکاب کرتی ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھو تو تمہارا جی خوش ہو جائے، جب تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں موجود نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔‘‘[7] [1] ابو داود، الصلوٰۃ: ۵۹۱۔ [2] ابو داود، الصلوٰۃ: ۵۹۲۔ [3] دارقطنی، الصلوٰۃ: ۱۰۶۹۔ [4] صحیح ابن خزیمہ، الصلوٰۃ: ۱۶۷۶۔ [5] سنن الکبریٰ للبیہقی، ص: ۱۳۰، ج۳۔ [6] ۴/النساء: ۳۴۔ [7] ابن ماجہ، النکاح: ۱۸۵۷۔