کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 449
کھڑے ہونا چاہیے جیسا کہ حضرت حجیرۃ بنت حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو وہ درمیان میں کھڑی ہوئیں۔ [1] سائلہ نے جس حدیث کے پیش نظر خود کو اپنے خاوند کی امامت کرانے کا اہل قرار دیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو کتاب اﷲ کا زیادہ قاری ہو۔ [2] اس حدیث کو بنیاد بنا کر عورت، مرد کے ساتھ یکجا ہونے کی صورت میں اس حکم کی مخاطب نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے معاشرہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا: یعنی مرد اور عورتیں، اس بنا پر مذکورہ صورت میں عورت، حدیث کے عموم میں داخل نہیں نیز دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ عورت، منصب امامت کی اہل نہیں ہے۔ (واﷲ اعلم) عورت کا غیر محرم سے مصافحہ کرنا سوال:کیا عورت اپنے کسی بھی غیر محرم سے مصافحہ کر سکتی ہے؟ اس کے متعلق قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب: کسی مرد کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت سے مصافحہ کرے اور نہ ہی کسی عورت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اﷲ کی قسم! رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا، آپ ان سے صرف زبانی طور پر بیعت لیتے تھے۔[3] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں سے بیعت لی تو چند عورتوں نے آپ سے مصافحہ کرنے کی خواہش کی، آپ نے فرمایا: ’’میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا۔‘‘[4] ان احادیث کی روشنی میں کسی مرد کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرے، اس سے فتنے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں لہٰذا اس قسم کی رسم بد کو ترک کرنا ضروری ہے۔ البتہ عورت کا دیگر عورتوں سے یا محرم رشتے داروں سے مثلاً خاوند، باپ، بھائی اور بیٹے وغیرہ سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (واﷲ اعلم) ناجائز کام کی قسم اٹھانا سوال:میں نے اپنی بیوی کو مخاطب ہو کر قسم اٹھائی کہ تو اپنے میکے نہیں جائے گی، اب خیال آتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، میرے لیے اس کا کیا حل ہے؟ جواب:انسان کو قسم اٹھاتے وقت خوب غوروفکر کرنا چاہیے، اگر کوئی قسم اٹھانے کے بعد دیکھتا ہے کہ مصلحت اس میں نہیں بلکہ قسم کے خلاف کام کرنے میں ہے تو اپنی قسم کو توڑ دیا جائے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیا جائے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب تو قسم اٹھائے پھر اس کام کے مقابلہ میں دوسرے کام کو بہتر سمجھے تو قسم کا کفارہ ادا کر کے دوسرا بہتر کام کر لے۔ [5] قسم کے کفارہ کے متعلق اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [1] بیہقی، ص: ۱۳۰، ج۳۔ [2] صحیح مسلم، الصلوٰۃ: ۶۷۳۔ [3] صحیح بخاری، الطلاق: ۵۲۸۸۔ [4] ابن ماجہ، الجہاد: ۲۸۷۴۔ [5] صحیح بخاری، الایمان: ۶۶۲۲۔