کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 441
بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے۔ ’’بچوں کے لیے خیروبرکت کی دعا کرتے ہوئے ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا۔‘‘ [1] ولید بن عقبہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے تو اہل مکہ اپنے بچوں کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا خیر کرتے[2] حضرت جریج پر جب تہمت زنا لگی تو اس واقعہ میں نومولود کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا ذکرملتا ہے۔[3] اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی امتوں میں بھی یہ فطرتی رسم قائم تھی، جسے اسلام نے بھی برقرار رکھا ہے بلکہ یتیم بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنے کو بہت اہمیت دی ہے چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے یتیم بچے یا بچی کے سر پر ہاتھ پھیرا، اس سے صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا جوئی مقصود تھی تو ہاتھ کے نیچے آنے والے ہربال کے عوض اسے نیکیاں دی جائیں گی۔[4]ایک آدمی نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنگدلی کا شکوہ کیا تو آپ نے بطور علاج یہ نسخہ تجویز کیا کہ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو اور مسکین کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کیا کرو اس سے ترادل نرم ہو جائے گا۔ [5]زیربحث مسئلہ کی متعدد صورتیں ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ ٭ بزرگ مرد محرم ہو تو اس کا اپنے سے چھوٹوں کو پیار دینا خواہ وہ بالغ ہی کیوں نہ ہوں۔ ٭ بزرگ عورت محرمات سے ہے اس کا اپنے سے عمر میں چھوٹوں کو پیار دینا خواہ وہ حد بلوغ کو پہنچ چکے ہوں۔ ٭ بزرگ مرد غیر محرم یا عورت غیرمحرمہ کا نابالغ بچوں اوربچیوں کو پیار دینا۔ اس کے جواز میں دوآراء نہیں ہو سکتیں۔ البتہ درج ذیل صورتوں میں اختلاف ہے۔ ٭ بزرگ مرد غیر محرم ہو وہ اپنی رشتہ دار بالغ بچیوں کے سر پر ہاتھ پھیرے۔ ٭ بزرگ عورت غیر محرمات سے ہو اور وہ اپنے رشتہ دار بالغ بچوں کو پیار دے۔ ان آخری دونوں صورتوں کے متعلق مختلف علماء سے رابطہ کرنے کے بعد دو موقف سامنے آئے ہیں۔ (ا) ایسا کرنا جائز نہیں ہے کہ کیونکہ شریعت میں اس کا ثبوت نہیں۔ (ب) ایسا کرنا جائز ہے کیونکہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا۔ فریقین کے دلائل پیش کرنے کے بعد آخر میں ہم اپنا مؤقف بیان کریں گے۔ جو حضرات اسے ناجائز قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں، آپ نے کبھی کسی بالغ بچی کے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا حالانکہ آپ تمام لوگوں میں زیادہ پرہیزگار اور اﷲ سے ڈرنے والے تھے۔ نیز وہ امت کے لیے روحانی باپ کی حیثیت رکھتے بلکہ بعض مواقع پر آپ نے ایسے ارشادات فرمائے ہیں جن کے عموم سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا جائزنہیں ہے۔ مثلاً: (الف) عورتوں سے بیعت لیتے وقت بعض خواتین کی طرف سے خواہش کا اظہار ہوا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہم سے مصافحہ [1] صحیح بخاری، الدعوات، باب نمبر: ۳۱۔ [2] مسند امام احمد، ص: ۳۲، ج۴۔ [3] مسند امام احمد، ص: ۴۳۴، ج۲۔ [4] مسند امام احمد، ص: ۲۵۰، ج۵۔ [5] مسند امام احمد، ص: ۲۶۳، ج۲۔