کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 439
کھانا ہے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔ (واﷲ اعلم) وعدہ سے انحراف کرنا سوال:ایک آدمی نے اپنے بھائی کے ساتھ اس کے کہنے پر ایک ایکڑزمین کا تبادلہ کیا۔ اس آدمی نے عدالت کے سامنے تبادلہ کا بیان دے دیا جبکہ فریق ثانی سے بیان لینے کی فوری ضرورت محسوس نہ کی گئی، بعد میں اس کابھائی یعنی فریق ثانی بیان دینے سے انکاری ہو گیا بالآخر کوشش بسیار کے بعد وہ بیان دینے پر اس شرط کے ساتھ آمادہ ہوا کہ پہلا شخص مشترکہ ڈیرہ سے دستبردار ہو جائے جو آٹھ مرلہ پر مشتمل ہے، پہلے شخص نے اقرار کیا اور ڈیرہ سے دستبردار ہو گیا، اب وہی شخص ڈیرہ سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتا ہے اوریہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ میں نے وہ بیان بامر مجبوری دیا تھا، اب کیا اسے مجبوری پر محمول کرتے ہوئے اپنا حصہ وصول کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔ جواب:فریق ثانی نے وعدہ سے انحراف کر کے بہت زیادتی کی ہے جبکہ فریق اول نے اس کے ساتھ پورا پورا تعاون کیا اور عدالت کے روبرو ایکڑ کے تبادلے کا بیان دیا، لیکن فریق ثانی کا اپنے بیان دینے کو مشترکہ ڈیرہ سے دستبرداری کے ساتھ مشروط کرنا بھی صحیح نہیں تھا تاہم فریق ثانی سے اپنا حق لینے کے لیے اسے قبول کر لیا، اور دستبرداری کا اعلان کر کے اسے چھوڑ دیا، اب اس کا اپنے وعدہ سے انحراف کرنا صحیح نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ﴾[1] ’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر مشتعل نہ کرے کہ تم عدل کرنا چھوڑدو، عدل کیا کرو، یہی بات تقویٰ کے قریب تر ہے۔‘‘ فریق اول نے ڈیرہ سے دستبرداری کا اعلان کرتے وقت کسی قسم کی مجبوری کا اظہار نہیں کیا، اب اس کا یہ کہنا کہ میں نے اپنا ایکڑ لینے کے لیے بامر مجبوری بیان دیا تھا قابل سماعت ہے، مسلمانوں کو اپنی شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے ان کو پورا کرنا چاہیے۔ اس بنا پر فریق اول کا اس سے انحراف صحیح نہیں ہے اور جب اس نے اس مشترکہ ڈیرہ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے تو اب اسے اپنا متروکہ حصہ وصول کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ (واﷲ اعلم) الگ الگ افراد کا خطبہ دینا اور جماعت کرانا سوال:ہمارے ہاں جمعہ کے دن خطبہ جمعہ ایک عالم دین دیتے ہیں جبکہ جماعت کا فریضہ مسجد کے قاری صاحب سرانجام دیتے ہیں کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے کہ خطبہ عالم دے اور جماعت کوئی دوسرا قاری کرائے؟ جواب:قرآن وسنت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص خطبہ دے وہی جمعہ کی نماز پڑھائے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل پر مداومت فرمائی ہے، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معمول تھا، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم اس طرح نماز [1] ۵/المائدۃ: ۸