کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 437
جواب:کسی مسلمان کو قرض دے کر اس کی ضروریات کو پورا کرنا بہت بڑی فضیلت ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی ضرورت کاخیال رکھتے ہیں۔[1] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس وقت تک آدمی کی مدد کرتا ہے، جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔[2] لیکن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض لینے کو پسند نہیں فرمایا کیونکہ اس سے انسان کی پریشانی میں اضافہ ہو تا ہے، آپ نماز میں اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ’’اے اﷲ! میں گناہ کرنے اور قرض لینے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ کسی نے دریافت کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ اکثر قرض سے پناہ مانگتے ہیں تو آپ نے فرمایا آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنا ہے۔[3] بلکہ بعض اوقات آپ یوں دعا کرتے تھے۔ ’’اے اﷲ! میں کفر اور قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ایک شخص نے کہا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کفر اور قرض دونوں برابر ہیں تو آپ نے فرمایا ہاں، یعنی قرض بعض اوقات انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔[4] اس لیے انسان کو چاہیے کہ قرض لینے سے اجتناب کرے اگر کبھی ضرورت پڑ جائے تو قرض لے کر اسے اتارنے میں دیر نہ کرے، اگر قرض لیتے وقت نیت صاف ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال دیتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے لوگوں سے قرض لیا اور اسے ادا کرنا چاہا تو اﷲ تعالیٰ اسے ادا کرنے کی ضرور توفیق دیتا ہے۔ [5]اگر قرض لیتے وقت نیت خراب تھی تو اﷲ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی نیت کے مطابق معاملہ کرے گا، چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے لوگوں سے اس نیت کے ساتھ قرض لیا کہ وہ اسے واپس نہیں کرے گا اﷲ تعالیٰ اسے تباہ وبرباد کرے گا۔[6]ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سے قرض لیتا ہے اور اﷲ خوب جانتا ہے کہ وہ ادا نہیں کرنا چاہتا وہ اﷲ کے نام پر اسے دھوکہ دیتا ہے اور باطل طریقہ سے اس کے مال کو اپنے لیے حلال سمجھتا ہے ایسا آدمی جب اﷲ کے حضور پیش ہو گا تو اس کی حیثیت چور کی ہو گی۔[7] جو شخص قرض لے کربلاوجہ واپس کرنے سے ٹال مٹول کرتا ہے اور ادائیگی کے بغیر ہی دنیاسے چلا جاتا ہے تو قیامت کے دن مقروض کی نیکیاں قرض دینے والے کے کھاتہ میں ڈال دی جائیں گی اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو قرض دینے والے کی برائیاں مقروض کے نامہ اعمال میں ڈال دی جائیں گی، چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ قیامت کے دن مفلس وہ شخص ہو گا جو بے شمار نیکیاں لے کر اﷲ کے حضور آئے گا لیکن اس نے دوسروں کے حق دبائے ہوں گے، ظلم وزیادتی کی صورت میں عیب جوئی اور غیبت کرنے کی صورت میں یا قرض دبانے اور مزدوری ہڑپ کرنے کی صورت میں، ایسے حالات میں اس کی نیکیاں حقداروں کو دی جائیں گی یا ان کی برائیاں اس کے نامہ اعمال میں جمع کی جائیں گی اور بالآخر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ [8] ان احادیث کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کا قرض دوسروں نے ناحق دبا رکھا ہے انہیں فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ [1] مسندامام احمد، ص: ۱۰۴، ج۴۔ [2] مسند امام احمد، ص: ۲۷۴، ج۲۔ [3] مسند امام احمد، ص: ۸۹، ج۶۔ [4] مسند امام احمد، ص: ۳۸، ج۳۔ [5] مسند امام احمد، ص: ۳۶۱، ج۲۔ [6] مسند امام احمد،ص: ۴۰، ج۵۔ [7] مسند امام احمد، ص: ۳۳۲، ج۲۔ [8] مسند امام احمد، ص: ۳۳۲، ج۲۔