کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 430
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک لخت جگر کا نام عاصیہ یعنی ’’نافرمانی کرنے والی‘‘ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام بدل کر جمیلہ ’’خوبصورت‘‘ رکھ دیا۔ [1] امام ابوداؤد نے چند ایک ناموں کی فہرست دی ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کیا تھا۔ [2] ٭ ایسے ناموں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن سے بدشگونی اور نحوست والے معانی ظاہر ہوتے ہوں، حضرت سعید بن مسیب اپنے باپ حضرت مسیّب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اس کا نام دریافت فرمایا اس نے جواب دیا میرا نام حزن ہے (جس کا معنی غم اور پریشانی ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنا نام سہل رکھ لو۔‘‘ (جس کا معنی سہولت اور نرمی ہے) اس نے جواب دیا میں اپنے باپ کا رکھا نام تبدیل نہیں کر سکتا۔ حضرت سعید بن مسیّب کا بیان ہے کہ اس وقت سے ہمارا خاندان قلق و پریشانی اور بے چینی و اضطراب کا شکار ہے۔ [3] ٭ اپنے بچوں کا ایسا نام بھی نہ رکھا جائے جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے بدترین اور ناپسندیدہ شخص وہ ہو گا جو خود کو شاہان شاہ کہلواتا تھا کیونکہ تمام بادشاہوں کا بادشاہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘ [4] ایسے ناموں کے شروع میں لفظ عبد کا اضافہ کر کے رکھے جا سکتے ہیں۔ ٭ ایسے ناموں سے بھی گریز کیا جائے جن میں خوشحالی اور برکت وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہو کیونکہ ان ناموں میں یہ قباحت ہے کہ جب کبھی دوسرے شخص سے اس نام والے کے متعلق پوچھا جائے گا آیا وہ گھر میں موجود ہے، اگر وہ شخص گھر میں موجود نہ ہو تو جواب میں کہا جائے گا نہیں، مثلاً یسار گھر میں ہے اور جواب دیا جائے کہ آسانی گھر میں نہیں ہے، تو یہ صورت حال خوش حالی کے خلاف ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [5] ٭ ایسے ناموں سے اجتناب کیا جائے جن میں لفظ عبد کو غیر اللہ کے ساتھ ملایا گیا ہو جیسا کہ کسی کا نام عبدالنبی رکھ دیا جائے یا عبدالعزیٰ یعنی عزیٰ کا بندہ وغیرہ۔ پوری امت مسلمہ کے نزدیک اس قسم کے نام رکھنا حرام ہیں، کیونکہ اس میں عبودیت کا اظہار غیر اللہ کے لیے ہے۔ ٭ ایسے ناموں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جن سے اسلامی قدر و منزلت مجروح ہونے کا اندیشہ ہو یا ان سے کفار کے ساتھ مشابہت کا پہلو نکلتا ہو یا ان سے ہلاکت و عذاب جیسے معانی کا اظہار ہوتا ہو جیسا کہ احلام: پراگندہ خواب دیکھنے والی، غادہ: چڑھتی جوانی والی عورت، شہاب: شعلہ چنگاری، حرب: جنگ و جدال وغیرہ، اس طرح پرویز وہ بادشاہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک پھاڑ دیا تھا، ایسے ناموں سے اسلامی تشخص مجروح ہوتا ہے لہٰذا ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ٭ ہمارے ہاں یہ بھی رواج ہے کہ جو لفظ قرآن میں آئے وہ نام اپنی بیٹی یا بیٹے کے لیے منتخب کر دیا جاتا ہے خواہ اس کا معنی کتنا [1] صحیح مسلم، الآداب: ۲۱۳۹۔ [2] ابوداود، الادب: ۴۹۶۵۔ [3] صحیح بخاری، الادب: ۶۱۹۰۔ [4] صحیح مسلم، الآداب: ۲۱۴۳۔ [5] صحیح مسلم، الآداب: ۲۱۳۷۔