کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 43
ہے بشرطیکہ پاپوش کی اصلیت اور حقیقت سے واقف ہو، لیکن اس نقش سے برکت حاصل کرنا اور اسے باعث فضیلت قرار دینا کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہے جیسا کہ ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں، البتہ اصلی پاپوش مبارک اگر کہیں موجود ہے تو اس میں خیر و برکت کا پہلو بدرجہ اتم موجود ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کوئی کمی نہیں آسکتی جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے جو انہیں فضل بن ربیع کے کسی لڑکے نے عنایت فرمائے تھے۔ آپ بالوں کو بوسہ دیتے، آنکھوں پر لگاتے اور پانی میں بھگو کر شفا کے طور پر اس پانی کو نوش کرتے، جن دنوں آپ پر آزمائس آئی اس وقت وہ آپ کی آستین میں رکھے ہوتے تھے، بعض لوگوں نے آپ کی آستین سے موئے مبارک نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ ناکام رہے۔ [1] آخر میں ہم اس امر کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اگرچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے آثار شریفہ سے تبرک حاصل کیا اور آپ کے لعاب دھن کو اپنے چہروں اور جسموں پر ملا۔ آپ نے انہیں منع نہیں فرمایا ایسا کرنا جنگی حالت کے پیش نظر انتہائی ضروری تھا، مقصد یہ تھا کہ قریش کو ڈرایا جائے اور ان کے سامنے اس اس بات کا اظہار کیا جائے کہ مسلمانوں کا اپنے رہبر و رہنما سے تعلق کس قدر مضبوط ہے؟ انہیں اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر والہانہ عقیدت و محبت ہے؟ وہ آپ کی خدمت میں کس قدر فنا ہیں اور وہ کس کس انداز سے آپ کی تعظیم بجا لاتے ہیں؟ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے چھپایا جاسکتا ہے کہ اس صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے حکیمانہ انداز میں اور لطیف اسلوب کے ساتھ مسلمانوں کی توجہ اعمال صالحہ کی طرف مبذول کرنے کی کوشش فرمائی جو اس قسم کے تبرکات کو اختیار کرنے سے کہیں بہتر ہیں، مندرجہ ذیل حدیث اس سلسلہ میں ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ ابو قراء سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن وضو کیا، آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنا شروع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ’’تم ایسا کیوں کرتے ہو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے پیش نظر ایسا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ بات کرتے ہوئے سچ بولے، اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اسے ادا کرے اور اپنے پڑوسیوں سے حسن سلوک کا مظاہرہ کرے۔‘‘ [2] مختصر یہ کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل تبرک یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں آپ کے ذریعے اللہ کی طرف سے ملا ہے اس پر عمل کیا جائے اور آپ کی صورت و سیرت کی اتباع کی جائے تو اس دنیا و آخرت کی خیر و برکات سے ہم مشرف ہوں گے، اب ہم سوالات کے مختصر جوابات دیتے ہیں۔ 1) کارڈ پر شائع کردہ تصاویر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاپوش مبارک کی نہیں ہیں اور نہ ہی ان سےبرکت حاصل کرنا جائز ہے۔ 2) اس میں جو فضائل و مناقب درج کیے گئے ہیں وہ حدیث کی کسی کتاب میں موجود نہیں ہیں، بلکہ یہ خود ساختہ ہیں، ان سے [1] سیر اعلام النبلاء،ص: ۲۵۹،ج۱۱۔ [2] الاحادیث الصحیحہ، رقم: ۲۹۹۸۔