کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 424
آداب و اخلاق دوران نماز کسی دوسرے کابا آواز بلند تلاوت کرنا سوال: مسجد میں باآواز بلند قرآن مجیدکی تلاوت کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے جبکہ اس کی تلاوت دوسرے نمازیوں کے لیے تشویش کا باعث ہو قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب: جب مسجد میں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں، اور قرآن کی تلاوت ان نمازیوں کے لیے خلل کا باعث ہو تو ایسی حالت میں باآواز بلند تلاوت کرنا حرام ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے آپ ایک مرتبہ مسجد میں تشریف لائے جبکہ لوگ اس طرح نماز پڑھ رہے تھے کہ تلاوت کرتے وقت ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: ’’بے شک نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا سرگوشی کر رہا ہے؟ اور کوئی کسی سے بڑھ کر بلند آواز میں تلاوت نہ کرے۔‘‘ [1] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازیوں کے پاس بآواز بلند قرآن پاک کی تلاوت کرنا درست نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا نمازیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اجنبی عورت کو خلوت میں دم کرنا سوال: ہمارے ایک بزرگ دور کے رشتہ دار ہیں، وہ مختلف امراض میں مبتلا عورتوں کو دم کرتے ہیں، بعض اوقات عورت کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر وہ کچھ دنوں کے لیے اپنے ہاں قیام کا بھی کہتے ہیں، ایسے حالات میں دم کروانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ جواب: کسی بھی اجنبی عورت سے خلوت اختیار کرنا شرعاً حرام ہے۔ خواہ وہ تنہائی قرآنی دم کرانے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’خبردار! جو آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرتا ہے، ان دونوں میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘ [2] کسی اجنبی مرد کے ساتھ اجنبی عورت کی خلوت جائز نہیں ہے پھر سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک غیر محرم کے پاس دم کرانے کے بہانے چند راتوں کا قیام کرنا، ہمارے نزدیک یہ قیام شر اور فساد کے وسائل میں شامل ہے، ہم مسلمانوں کو ایسے [1] ابو داود، الصلوٰۃ: ۱۳۳۲۔ [2] ترمذی، الرضاع: ۲۱۶۵۔