کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 42
بنی۔ [1] اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قمیص رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو پہنایا گیا، جسے بطور کفن اس کے ساتھ ہی قبر میں دفن کر دیا گیا۔[2] امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چند موئے مبارک تھے، آپ نے ان کے متعلق وصیت کر دی تھی کہ انہیں قبر میں ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ [3] ان حقائق کے پیش نظر ہم کہتے ہیں کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں، بالوں اور نعلین میں سے کچھ باقی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے بس میں ہے کہ وہ قطعی اور یقینی طور پر یہ ثابت کر سکے کہ فلاں چیز واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی استعمال کردہ ہے پھر جب صورت حال یہ ہےتو ہمیں بتایا جائے کہ دور حاضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین کی تصاویر کہاں سے برآمد کی گئی ہیں؟ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام استعمال کردہ ذاتی اشیاء بابرکت ہیں اور ان سے برکت حاصل کرنا بہت بڑی خوش قسمتی اور باعث عزت ہے لیکن لوگ جن اشیاء کی تصاویر کے کارڈ لیے پھرتے ہیں اور ان کی اشاعت بابرکت خیال کرتے ہیں، پھر ان تصاویر کو اپنے سینہ اور پگڑی پر آویزاں کرتے ہیں، ان تصاویر کے متعلق لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اسے گھر، دوکان یا دفتر میں رکھنے سے ہر قسم کی مصیبت اور بلا ٹل جاتی ہے، تنگ دست کی تنگ دستی اور ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ یہ سب جذباتی باتیں خلاف شریعت ہیں، تصویر رکھ کر اس کا بوسہ لیا جائے تاکہ مکہ مکرمہ جانے کی ضرورت ہی نہ رہے، ہمیں سوال کے ہمراہ جو کارڈ موصول ہوا ہے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارکین کے چھ عدد تصاویر ہیں، اس کا عنوان یہ ہے ’’نقش نعلین مبارک سلطان دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘۔ پھر اس نقش نعل کے متعلق لکھا ہے کہ اسے اپنے پاس رکھنے والے کو مندرجہ ذیل برکات حاصل ہوں گی۔ 1) سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو گی۔ 2) اس کو اپنے پاس رکھنے سے شیطان کے شر سے حفاظت ہو گی۔ 3) اس کو آنکھوں پر رکھنے سے امراض چشم سے نجات حاصل ہو گی۔4 ) گنبد خضراء کی حاضری نصیب ہو گی۔ 5) اس کو اپنے پاس رکھنے سے ظالموں کے ظلم سے نجات حاصل ہو گی۔ 6) اس کے واسطہ سے دعا مانگی جائے تو پوری ہو گی۔ 7) ہر قسم کے جادو ٹونے سے حفاظت ہو گی۔ 8)اس کو اپنے پاس رکھنے سے ہر حاسد کے حسد و نظر بد سے حفاظت ہو گی۔ 9) جس کشتی میں ہو وہ نہ ڈوبے اور جس گھرمیں ہو چوری سے محفوظ رہے۔ ہمارے نزدیک نقش نعلین کے مذکورہ فضائل و مناقب خود ساختہ اور بناوٹی ہیں، احادیث میں ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا، حضرت انس رضی اللہ عنہ جو نعلین کے نگران تھے، ان سے کچھ بھی منقول نہیں ہے، بلکہ ہمارے نزدیک یہ تمام نقش ہی جعلی اور بناوٹی ہیں، خاص طور پر درمیان میں بڑا جوتا جو دور حاضر کی سوفٹی کی شکل پر تیار کیا گیا ہے، اس کے بناوٹی ہونے میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاپوش کی تصویر بنانے میں چنداں حرج نہیں، اگر کوئی محبت کے پیش نظر ایسا کرتا ہے تو اس کی گنجائش [1] صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۷۷۔ [2] صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۷۰۔ [3] سیر أعلام النبلاء، ص: ۳۳۷،ج۱۱۔