کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 419
مانگی جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١﴾ [1] ’’اگر تمہیں کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب ہے۔‘‘ اس تمہید کے بعد ہم صورت مسؤلہ کا جائزہ لیتے ہیں تو انتہائی تکلیف دہ معاملہ سامنے آتا ہے، یعنی ایک بیٹی گھر میں رہتے ہوئے اپنے بہنوئی سے پردہ کرتی ہے، لیکن جب وہ اکیڈمی میں پڑھانے کے لیے جاتی ہے تو وہاں مرد اساتذہ سے پردہ نہیں کرتی، حالانکہ پردے کے احکام ہر مقام پر یکساں ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے، ہمارے لیے یہ بات انتہائی تعجب کا باعث ہے کہ عورت نے اپنے دائرہ عمل سے باہر قدم رکھا ہے، اگر کوئی ایسی مجبوری ہے تو ایسی اکیڈمی میں پڑھانے کا شوق پورا کر لیا جائے جہاں عملہ خواتین پر مشتمل ہو، اگر کسی مقام پر مردوں کا سامنا کرنا پڑے تو اپنے ستر و حجاب کی پابندی ناگزیر ہے، اس میں عورت کی عزت و ناموس اور عصمت و عفت کی حفاظت ہے، بہرحال پردہ عورت کے لیے ایسی حفاظتی جیکٹ ہے جو مردوں کی طرف سے نگاہ کے زہر آلود تیروں سے بچاتی ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیٹی کو گھر اور باہر ہر جگہ شرعی پردہ کرنے کی توفیق دے۔ (آمین) خوبصورتی کے لیے سونا چاندی کے برتن رکھنا سوال:کیا سونے اور چاندی کے برتن خوبصورتی اور زینت کے لیے گھر میں رکھنا جائز ہیں یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا اور پینا تو بالاتفاق جائز نہیں ہے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی ان سے بنی ہوئی پلیٹوں میں کھاؤ، کیونکہ دنیا میں یہ کافروں کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ [2] حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص چاندی کے برتنوں میں (کھاتا) پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔‘‘ [3] امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ہر چیز میں اصل حلت ہے، جس کی حرمت موجود نہیں وہ حلال ہے، اس لیے چاندی اور سونے کے برتنوں کو کھانے پینے کے علاوہ کسی بھی استعمال کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔ [4]لیکن ہمیں اس مؤقف سے اتفاق نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے پینے کی حرمت بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے یہ برتن کافروں کے لیے دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں، اس بنا پر ہمارا رجحان ہے کہ یہ کھانے پینے کے علاوہ گھر کی خوبصورتی کے لیے بھی نہ رکھے جائیں کیونکہ اس میں اپنے مال کی نمود و نمائش اور اسراف و تبذیر ہے۔ اس بنا پر سونے اور چاندی کے برتنوں سے اجتناب کیا جائے۔(واللہ اعلم) [1] ۳۳/الاحزاب: ۵۲۔ [2] صحیح بخاری، الاطعمہ: ۵۴۲۴۔ [3] بخاری، الاشربۃ: ۵۶۳۴۔ [4] نیل الاوطار، ص: ۱۲۷۔