کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 413
جواب:جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے تا آنکہ اپنی قربانی کرے اور جس شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ نہیں، اس کے لیے بال اور ناخن کاٹنے کی ممانعت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، البتہ قربانی کرنے والے کے لیے مذکورہ ممانعت احادیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے ناخن اور بال کاٹنے سے رک جائے۔‘‘ [1] جس کے پاس قربانی کے لیے کوئی جانور ہو وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کر لینے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ [2] اس بنا پر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف ہے کہ قربانی کرنے والے کے لیے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے دوران بال یا ناخن کاٹنا حرام ہے۔ [3] بہرحال ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد ناخن یا بال نہ کاٹنے کی پابندی صرف اس شخص کے لیے ہے جو قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور جس کا قربانی دینے کا ارادہ نہیں ہے، اس کے لیے یہ پابندی نہیں، ہاں ایسا شخص اگر قربانی کا ثواب لینا چاہتا ہے تو وہ عید کے روز اپنے بال اور ناخن تراش لے، مونچھیں کاٹ لے اور زیر ناف بال صاف کر لے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس امر کی صراحت ہے۔ [4] عقیقہ میں مادہ یا نر جانور ذبح کرنا سوال:کیا یہ صحیح ہے کہ لڑکی کے عقیقہ میں مادہ اور لڑکے کے عقیقہ میں نر جانور ذبح کیے جائیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔ جواب:لڑکی کے لیے مادہ اور لڑکے کے لیے نر جانور ذبح کرنے کی تفصیل کتاب و سنت میں نہیں ہے بلکہ اس تفصیل کے بغیر عقیقہ کے لیے نر اور مادہ دونوں طرح کے جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق سنا آپ نے فرمایا: ’’لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے، یہ جانور نر ہوں یا مادہ تمہیں کوئی چیز نقصان نہیں دے گی۔‘‘ [5] اس حدیث کے مطابق عقیقہ کے لیے نر یا مادہ جانور کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ لوگوں کا خود ساختہ معلوم ہوتا ہے۔ قربانی کی شرعی حیثیت سوال:قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے، کیا اسے واجب کہنا صحیح ہے، قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کیا تصریحات ہیں؟ جواب:قربانی کے فرض یا سنت ہونے کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے احناف کا مؤقف ہے کہ قربانی ہر صاحب [1] مسند امام احمد، ص: ۲۸۹،ج۶۔ [2] بیہقی، ص: ۲۶۶،ج۹۔ [3] المغنی لا بن قدامہ،ص: ۹۶،ج۱۱۔ [4] مستدرک حاکم، ص: ۲۲۳،ج۴۔ [5] ابوداود، العقیقہ: ۲۸۳۵۔