کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 41
دوران نماز بتایا کہ انہیں گندگی لگی ہوئی ہے لہٰذا میں نے انہیں اتار دیا۔[1] بہرحال یہ نعلین سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور انہیں بطور وراثت تقسیم نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے پاس ہی رہنے دیا گیا، حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر کے آخری حصہ میں دمشق چلے گئے تھے، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب پاپوش مبارک نویں ہجری کے آغاز میں فتنہ تیمور لنگ کے وقت ضائع ہو گئیں، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی ذاتی اشیاء بہت کم تعداد میں موجود تھیں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عنوان میں جن ذاتی اشیاء کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں زرہ، عصا، تلوار، پیالہ، انگوٹھی، موئے مبارک، نعلین اور چند ایک برتن، پھر جو احادیث اس عنوان کے تحت ذکر کی ہیں ان میں صرف پانچ چیزوں کا ذکر ہے پہلی میں انگوٹھی دوسری میں نعلین، تیسری میں چادر چوتھی میں پیالہ، پانچویں میں تلوار، باقی اشیاء یعنی زرہ، موئے مبارک، چھڑی اور عصا کے متعلق دوسرے مقامات پر احادیث ذکر کی ہیں، ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام استعمال کردہ ذاتی اشیاء اور آثار شریفہ بابرکت ہیں اور ان سے برکت حال کرنا شرعاً جائز ہے لیکن اس تبرک کے لیے دو شرائط ہیں: تبرک لینے والا شرعی عقیدہ اور اچھے کردار کا حامل ہو، جو شخص عمل اور عقیدہ کے اعتبار سے اچھا مسلمان نہیں اسے اللہ تعالیٰ اس قسم کے تبرکات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ جو شخص تبرک حاصل کرنا چاہتا ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی آثار میں سے کوئی شے حاصل ہو اور پھر وہ اسے استعمال بھی کرے محض دیکھ لینے سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا، لیکن ہم یہ بات بھی علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے آثار شریفہ اور تبرکات معدوم ہو گئے یا جنگوں اور فتنوں کی نذر ہو کر ضائع ہو گئے جیسا کہ درج ذیل واقعات سے معلوم ہوا ہے۔ (الف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا رکھی تھی، جسے آپ پہنتے تھے، آپ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے استعمال کیا، ان کے بعد حضرت عثمان کے پاس رہی بالآخر بئر اریس میں گر گئی اور تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکی۔ [2] (ب) عباسی دور کے آخر میں جب تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رداء مبارک اور چھڑی جس سے آپ کھجلی کیا کرتے تھے، ہنگاموں میںضائع ہو گیں، یہ سن 656 ءکے واقعات ہیں۔ (ج) دمشق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب پاپوش مبارک بھی نویں ہجری کے آغاز میں فتنہ تیمور لنگ کے وقت ضائع ہو گئی جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ (د) آپ کے آثار شریفہ کے فقدان کی ایک وجہ یہ تھی کہ جس خوش قسمت انسان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نشانی تھی اس نے وصیت کر دی کہ اسے قبر میں اس کے ساتھ ہی دفن کر دیا جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عورت نے اپنے ہاتھ سے چادر تیار کی اور آپ کو بطور تحفہ پیش کی۔ آپ نے اسے قبول کرتے ہوئے زیب تن فرمایا، لیکن حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس خواہش کے پیش نظر کہ وہ آپ کا کفن ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔ بالآخر وہ چادر ان کا کفن [1] مستدرک حاکم، ص: ۲۶۰،ج۱۔ [2] صحیح بخاری، اللباس: ۵۸۷۹۔