کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 401
ہماری نظر میں معاشی اقتدار کے علاوہ کسی چیز کی قدر باقی نہیں رہی، مندرجہ بالا سوال میں بھی اسی طرح کی سوچ کار فرما ہے، حالانکہ عقیقہ ایک الگ عبادت ہے جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اور نعمت اولاد پر اس کا شکر ادا کرنے کے لیے بچے کی پیدائش کے ساتویں روز جانور ذبح کرنے کی صورت میں ادا کی جاتی ہے، نومولود کی طرف سے مستقل طور پر ایک جانور ذبح کرنا ہوتا ہے تاکہ اسے گروی سے آزاد کیا جائے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ہر بچہ اپنے عقیقہ کے عوض گروی ہوتا ہے لہٰذا پیدائش کے ساتویں روز اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور سر کے بال منڈوائے جائیں۔‘‘[1] لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جاتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے سوال کرنے پر اس طرح کا حکم دیا تھا۔ [2] ہمارے رجحان کے مطابق قربانی کے جانور میں اس طرح کا اشتراک صحیح نہیں ہے، عقیقہ کے لیے الگ سے جانور ذبح کرنے کا اہتمام کیا جائے، عبادات کے سلسلہ میں اس طرح کی ’’بچت سکیم‘‘ کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ (واللہ اعلم) مقروض کے لیے قربانی کا حکم سوال:میں مقروض ہوں لیکن قربانی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا مزید قرض لے کر قربانی کر سکتا ہوں، قرآن و حدیث میں میرے لیے کیا حکم ہے؟ جواب:شریعت اسلامی میں تلاش بسیار کے باوجود ہمیں ایسی کوئی دلیل نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مقروض شخص قربانی نہیں کر سکتا یا قرض لے کر قربانی نہیں کی جا سکتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ قرض لینے کے بعد اسے جلد از جلد اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ابن آدم کی جان قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے تاانکہ اسے ادا کر دیا جائے۔‘‘[3] اسی طرح ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ کی راہ میں لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ’’جنت ملے گی، جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جبرئیل نے ابھی ابھی میرے کان میں کہا ہے کہ ایسے حالات میں قرض معاف نہیں ہو گا۔‘‘ [4] قرض کے متعلق اس قدر سخت وعید کے باوجود اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ اگر مقروض شخص قربانی کرے گا تو اس کی قربانی قبول نہیں ہو گی بلکہ قربانی ایک ایسی عبادت ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ترغیب دلائی ہے، اس لیے اگر مقروض شخص بھی قربانی جیسی عبادت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کر سکتا ہے تو اسے ضرور ایسا کرنا چاہیے، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے خزانہ غیب سے قرض اتارنے کی کوئی سبیل پیدا کر دے۔ (واللہ اعلم) [1] ابوداود، الضحایا:۲۸۲۸۔ [2] مسند امام احمد، ص: ۳۸۱،ج۶۔ [3] مسند امام احمد،ص:۵۰۱،ج۲۔ [4] مسند امام احمد،ص: ۳۲۵،ج۳۔