کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 386
’’اور جن بیویوں سے تمہیں سر کشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، اگر نہ سمجھیں تو خواب گاہوں میں ان سے الگ رہو پھر بھی نہ سمجھیں تو انہیں مارو، پھر وہ اگر تمہاری بات قبول کر لیں تو خواہ مخواہ ان پر زیادتی کے بہانے تلاش نہ کرو۔‘‘ نشوز کا لغوی معنی اٹھان اور ابھار کے ہیں، اصطلاحی طور پر نشوز سر کشی کو کہتے ہیں مثلاً: عورت اپنے خاوند کو اپنا ہمسر یا اپنے سے کمتر سمجھتی ہو یا اس کی سربراہی کو اپنے لیے توہین سمجھ کر اسے تسلیم نہ کرتی ہو یا اس کی اطاعت کے بجائے اس سے سر کشی اور کج روی کرتی ہو، خندہ پیشانی سے پیش آنے کے بجائے بدخلقی اور پھوہڑ پن کا مظاہرہ کرتی ہو، بات بات پر ضد کرتی ہو، ہٹ دھرمی دکھاتی ہو یا مرد پر ناجائز قسم کے اتہامات لگاتی ہو۔ یہ تمام باتیں نشوز کے معنی میں داخل ہیں، ایسی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو تین قسم کے ترتیب وار اقدامات کرنے کی اجازت دی ہے۔ 1) اسے نرمی سے سمجھایا جائے کہ اس کے موجودہ رویہ کا انجام برا ہو سکتا ہے۔ 2) اگر وہ اس کا اثر قبول نہ کرے تو خاوند اس سے الگ کسی دوسرے کمرہ میں سونا شروع کر دے۔ 3) اگر وہ سرد جنگ کو نہیں چھوڑتی تو اسے ہلکی پھلکی مار دی جائے، اس مار کی چند شرائط ہیں کہ اس مار سے ہڈی پسلی نہ ٹوٹے اور چہرے پر نہ مارے، اگر یہ تمام حربے ناکام ہو جائیں تو طلاق سے قبل فریقین اپنے اپنے ثالث مقرر کریں جو اصلاح کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح اصلاح نہ ہو سکے تو آخری حربہ طلاق دینے کا ہے۔ صورت مسؤلہ میں اگر بیوی بے نماز یا نافرمان ہے تو مذکورہ بالا اقدامات سے اصلاح کی جائے بصورت دیگر طلاق دے کر اسے فارغ کر دیا جائے۔ (واللہ اعلم) طلاق کو مشروط کرنا سوال:میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نے اس بچے کو آیندہ مارا تو تجھے طلاق ہے، جبکہ وہ حاملہ تھی چنانچہ میرے کہنے کے تیسرے دن اس نے بچے کو مارا اور شام کے وقت بچے کو جنم دیا، اب میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا میں اس سے رجوع کر سکتا ہوں؟ جواب:طلاق کو کسی کام کے ساتھ مشروط کر دینے کو طلاق معلق کہا جاتا ہے، اگر کام کرنے سے پہلے وہ اس شرط کو ختم کر دے تو اسے یہ حق ہے کیونکہ جو شخص کوئی شرط عائد کر سکتا ہے وہ اس شرط کو ختم کرنے کا بھی مجاز ہے لیکن اگر وہ شرط کو برقرار رکھتا ہے تو بیوی کے وہ کام کرنے کے ساتھ طلاق واقع ہو جائے گی، پھر اسے دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١﴾[1] ’’اور ان کے خاوند اس مدت میں ان سے رجوع کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، بشرطیکہ وہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں۔‘‘ یعنی رجوع کر کے بیوی کو تنگ کرنا مقصود نہ ہو بلکہ اسے گھر میں آباد کرنے کا ارادہ ہو تو اسے رجوع کرنے کا شریعت نے حق دیا ہے۔ صورت مسؤلہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو مشروط طلاق دی اور وہ شرط پوری ہو گئی اس لیے یہ ایک طلاق شمار ہو گی ، پھر [1] ۲/البقرۃ: ۲۲۸۔