کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 384
ماں، بہن، پھوپھی اور خالہ سے شادی کر سکتا ہے۔ کیونکہ ان کے درمیان دودھ یا نسب کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی اگر اپنے رضاعی بھائی کی بہن سے شادی کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔[1] صورت مسؤلہ میں ایک لڑکے نے کسی لڑکی کے ساتھ ایک عورت کا دودھ پیا ہے تو لڑکا اور لڑکی تو دودھ کے اعتبار سے بہن بھائی بن جائیں گے، ان کا باہمی نکاح حرام ہے البتہ لڑکے کا بھائی، اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے کیونکہ ان کے درمیان میں نسبی یا رضاعی کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ابو اھاب کی بیٹی ام یحییٰ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، نکاح کرنے کے بعد ایک سیاہ فام لونڈی نے دعویٰ کر دیا کہ میں نے میاں بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے یعنی یہ دونوں دودھ کے اعتبار سے بہن بھائی ہیں، لہٰذا ان کا نکاح جائز نہیں ہے۔ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تمہارا آپس میں نکاح کیونکر جائز ہو سکتا ہے جب کہ ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ میں نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے۔‘‘ چنانچہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لی تو اس نے دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا۔ [2] علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے صراحت کی ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دودھ پینے والی لڑکی نے پھر ان کے بھائی ظریب بن حارث سے شادی کر لی تھی۔[3]ان حقائق کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک لڑکی کے ہمراہ کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو وہ لڑکی اس شخص کی رضاعی بہن ہے، جس نے اس کے ساتھ دودھ پیا ہے اور اس کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہو سکتا، البتہ دودھ پینے والے کے بھائی کے لیے جائز ہے کہ وہ اس لڑکی سے نکاح کر لے کیونکہ اس کا لڑکی کے ساتھ نسب اور رضاعت کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوا۔ (واللہ اعلم) باضابطہ رخصتی سے پہلے طلاق دے دینا سوال پچھلے سال فروری ۲۰۰۹ءمیں میرا نکاح ہوا، لیکن کچھ مجبوری کی وجہ سے رخصتی نہ ہو سکی، جب کہ گھر سے باہر ہم میاں بیوی آپس میں ملتے رہے، باضابطہ رخصتی سے قبل ہی میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی، اب میرے گھر والے کہتے ہیں کہ اس صورت میں عدت وغیرہ نہیں ہے، وہ آگے نکاح کرنا چاہتے ہیں جب کہ میرے خاوند نے طلاق کے بعد رجوع کر لیا ہے، اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی کریں۔ جواب رخصتی سے قبل اگر طلاق ہو جائے تو مطلقہ عورت پر کوئی عدت نہیں ہوتی بلکہ طلاق ملتے ہی نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اسے آگے نکاح کرنے کی اجازت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ﴾[4] [1] المغنی،ص: ۳۱۹،ج۱۱۔ [2] صحیح بخاری، العلم: ۸۸۔ [3] عمدۃ القاری، ص: ۱۴۳،ج۲۔ [4] ۳۳/الاحزاب:۴۹۔