کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 378
حق مہر واپس لینا سوال:ایک شخص کا کسی عورت سے نکاح ہوا، ایک لاکھ روپیہ حق مہر غیر معجل طے پایا، اس کے علاوہ نکاح فارم پر یہ شرط لکھی گئی کہ پانچ تولے طلائی زیور، عورت کی ملکیت ہو گا، شادی کے کچھ عرصہ بعد عورت نے تنسیخ نکاح کی درخواست دائر کر دی، پھر تنسیخ نکاح کا فیصلہ ہو گیا، اب کیا خاوند حق مہر کی عدم ادائیگی اور زیورات کی واپسی کا حق رکھتا ہے؟ قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ درکار ہے۔ جواب:ہمارے رجحان کے مطابق حق مہر کی ادائیگی موقع پر ہو جانی چاہیے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١﴾[1] ’’تم عورتوں کا حق مہر خوشی خوشی ادا کر دو۔‘‘ نکاح فارم پر حق مہر کے متعلق معجل اور غیر معجل کی تقسیم ایک چور دروازہ ہے، ہم اسے صحیح نہیں سمجھتے، بعض لوگ حکومت کی طرف سے حق مہر کی رقم پر ناجائز عائد کردہ ٹیکس سے بچنے کے لیے ایسا کرتے ہیں کہ معمولی حق مہر عند الطلب یا غیر معجل رکھ لیتے ہیں اور طلائی زیورات، عورت کی ملکیت کر دیتے ہیں، بطور خلع تنسیخ نکاح کی صورت میں بیوی کو حق مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے، صورت مسؤلہ میں حق مہر مبلغ ایک لاکھ روپیہ غیر معجل ہے جو ادا نہیں کیا گیا، خلع کی صورت میں اس کی ادائیگی خاوند سے ساقط ہو جائے گی، البتہ جو زیورات اس کی ملکیت کر دئیے گئے ہیں، وہ اسے واپس نہیں ملیں گے، کیونکہ وہ خود ہی ان طلائی زیورات کو اس کی ملکیت کر چکا ہے۔ (واللہ اعلم) قبل از نکاح طلاق دینا سوال:میری اپنی حقیقی چچا کی بیٹی سے منگنی ہوئی ہے لیکن میں جہالت کی وجہ سے متعدد مرتبہ اسے نکاح سے پہلے ہی طلاق دے بیٹھا ہوں، اب میرا ارادہ اس سے نکاح کرنے کا ہے، میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:ہم میں کچھ لوگ اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں، قبل از نکاح طلاق دینا بھی اسی قبیل سے ہے، عقد نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی کیونکہ طلاق دینا شوہر کا اختیار ہے، اور جو ابھی ’’شوہر‘‘ نہیں بنا اسے طلاق دینے کا کوئی اختیار نہیں، وہ لڑکی جس سے منگنی ہوئی ہے وہ اس کی بیوی نہیں ہے، ایسے حالات میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’طلاق، صرف نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔‘‘ [2] بہرحال قبل از نکاح طلاق واقع نہیں ہوتی، اگر کسی نے یہ حماقت کر ڈالی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس اقدام پر استغفار کرے۔ ایسی طلاق سے آیندہ ہونے والے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ (واللہ اعلم) [1] ۴/النساء: ۴۔ [2] ابن ماجہ، الطلاق:۲۰۴۸۔