کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 371
کے سر پرست کے لیے گھر کی تیاری یا گھریلو سامان خریدنا واجب نہیں ہے، کیونکہ قرآن و حدیث میں کوئی ایسی دلیل نہیں ملتی کہ لڑکی کے والدین گھر کا ساز و سامان خرید کر خاوند کے حوالے کریں، اس سلسلہ میں کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو یا اس کے والدین کو اس کام کے لیے مجبور کرے یا شادی کے بعد لڑکی پر سامان کی فراہمی کے لیے کوئی دباؤ ڈالے، ہاں اگر کوئی اس دباؤ سے آزاد ہو کر گھر کا سامان بنا کر دیتا ہے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ ہو گا، اگر نیت خالص ہے تو اس صدقہ پر ثواب کی امید بھی کی جا سکتی ہے، نیز واضح رہے کہ حق مہر خاص بیوی کا حق ہے، وہ جہاں چاہے اور جیسے چاہے اسے خرچ کرنے کی مجاز ہے، اسے معاف کر دینے یا گھریلو سامان خریدنے کے لیے مجبور کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اگر اس کی رضا مندی سے استعمال کر لیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا﴾[1] ’’اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو تم اسے مزے سے کھا پی سکتے ہو۔‘‘ بہرحال ہمارے ہاں لڑکی کی طرف سے گھریلو سامان فراہم کرنے کی رسمِ جہیز اصلاح طلب ہے۔ (واللہ اعلم) نشئی کی طلاق سوال:ایک آدمی نے شراب کے نشہ میں مدہوش اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جب اسے ہوش آیا تو اسے بتایا گیا کہ تو نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو اس نے سراسر انکار کر دیا کہ مجھے اس کا علم نہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ نشہ اور بیماری کی مدہوشی میں طلاق ہو جاتی ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:طلاق کے لیے ضروری ہے کہ خاوند طلاق دیتے وقت خود مختار، مکلف اور کامل ہوش و حواس میں ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلاق اور آزادی اغلاق میں نہیں ہوتی۔ [2] محدثین نے اغلاق کے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔ 1) زبردستی لی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ 2) شدید غصے اور سخت نشہ میں جب انسان کی عقل پر پردہ پڑ جائے تو ایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔[3] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجود انسان اور مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں ہے۔ ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ 3 امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ پاگل اور بحالت نشہ کی طلاق نہیں ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے شراب کی حد لگائی جائے اور اس کی بیوی کو الگ کر دیا جائے، ان سے حضرت ابان بن عثمان نے بیان کیا کہ حضرت [1] ۴/النساء:۴۔ [2] ابوداود، الطلاق: ۲۱۹۳۔ [3] صحیح بخاری، الطلاق، باب نمبر۱۰۔