کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 368
1) بیوی کے خرچہ کی مقدار متعین نہیں ہے اور نہ اولاد کے لیے کچھ مقرر ہے، دونوں اخراجات معروف طریقہ سے ادا کیے جائیں۔ 2) اگر شوہر اور والد اپنے اوپر واجب خرچہ ادا نہ کریں تو بیوی اور اولاد کو اتنا خرچہ لینے کی اجازت ہے جو انہیں کافی ہو۔ 3) واجب حقوق میں جس کی مقدار اللہ اور اس کے رسول نے مقرر نہیں کی، اس میں عرف کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ صورت مسؤلہ میں سائلہ کو خاوند کے مال سے معروف طریقہ کے مطابق اتنا لینے کی اجازت ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے، لیکن ضروریات کی آڑ میں فضولیات کا دروازہ نہ کھولا جائے اور فیشن پرستی اور فضول خرچی کی گنجائش اس حدیث سے پیدا نہیں ہوتی۔ اگرچہ خرچہ کی مقدار مقرر نہیں ہے کیونکہ مقدار مقرر کرنا ظلم کے مترادف ہے بہرحال جتنی ضرورت ہو اور اس قدر کفایت کی جائے خاوند کے مال سے اجازت کے بغیر لینے کی شرعاً گنجائش ہے۔ (واللہ اعلم) مطلقہ کا نکاح ثانی کرنا سوال میرے خاوند نے عرصہ دو سال سے مجھے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کردیا ہے، اب میرا اللہ کے علاوہ اور کوئی سہارا نہیں ہے، میں زندگی گزارنے کے لیے کسی سہارے کی تلاش میں ہوں، کیا شریعت کی رو سے مجھے نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے؟ ازراہ کرم اس سلسلہ میں میری راہنمائی فرمائیں۔ جواب جس عورت کو طلاق دی جاتی ہے دوران عدت خاوند کو اس سے رجوع کرنے کا پورا پورا حق ہوتا ہے، عدت گزارنے کے بعد عورت آزاد ہے، شریعت نے اسے نکاح ثانی کرنے کی اجازت دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ ﴾[1] ’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں دوسرے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو جبکہ وہ آپس میں معروف طریقہ کے مطابق رضا مند ہوں۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے اور عورت عدت گزارنے کے بعد کہیں دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کے سابقہ شوہر کو ایسی گھٹیا حرکت اور کمینگی نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے نکاح میں رکاوٹ بنے اور یہ کوشش کرے کہ جس عورت کو اس نے چھوڑا ہے اسے کوئی دوسرا اپنے نکاح میں لانا پسند نہ کرے، کیونکہ دوسری جگہ نکاح کرنا عورت کا حق ہے، سابق شوہر کو اس حق میں حائل ہونے کی شرعاً اجازت نہیں ہے لیکن نکاح ثانی کے لیے چند چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ٭ اپنے سر پرست کی اجازت انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ ٭ حق مہر اور گواہوں کی موجودگی بھی لازمی ہے۔ ٭ اس نکاح کو خفیہ نہ رکھا جائے بلکہ جہاں عورت رہائش پذیر ہے اس کے قرب و جوار میں رہنے والوں کو اس نکاح کا علم ہونا چاہیے۔ صورت مسؤلہ میں سائلہ کو مذکورہ شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے نکاح ثانی کرنے کی اجازت ہے شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) [1] ۲/البقرۃ: ۲۳۲۔