کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 360
آپ پر ہی ظلم کرے گا۔‘‘ بیوی کا نان و نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہے، اس کے کھانے، پینے، لباس، رہائش اور دیگر ضروریات زندگی فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اگر وہ کسی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہے اور نبھا کی کوئی صورت نہیں بنتی تو اسے طلاق دے کر فارغ کر دینا چاہیے، اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١﴾[1] ’’اور اگر دونوں میاں بیوی الگ ہو جائیں تو اللہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجبوراً بیوی کا خاوند کے ساتھ بندھے رہنا ضروری نہیں، تکلیف دہ حالات میں علیحدگی ضروری ہے، اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ عورت کو کوئی اور اچھا خاوند نصیب کر دے اور مرد کو اس سے بہتر بیوی نصیب کر دے اور وہ حسن سلوک سے باہمی نبھا کر لیں، لیکن گومگو کی زندگی گزارنے کو شریعت نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا ہے، اگر خاوند اچھی معاشرت سے کام نہ لے اور نہ ہی طلاق دے کر اپنی بیوی کو فارغ کرے تو شریعت نے بیوی کو حق دیا ہے کہ وہ خلع لے کر فارغ ہو جائے، اس کی دو صورتیں ہیں۔ دونوں میاں بیوی باہمی رضا مندی سے علیحدگی اختیار کر لیں، بیوی حق مہر واپس کر کے اس سے طلاق لے لے۔ اگر باہمی رضا مندی سے یہ کام نہ ہو سکے تو بذریعہ عدالت علیحدگی کرائی جائے، اس کی صورت یہ ہے کہ عورت فیملی کورٹ میں درخواست دے کہ میں انتہائی نامساعد حالات سے دو چار ہوں، میرا خاوند مجھے آباد بھی نہیں کرتا اور طلاق بھی نہیں دیتا۔ مجھے حق انصاف دیا جائے، عدالت حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لائے گی اور خاوند کو نوٹس جاری کرے گی، بالآخر عدالت تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کرے گی، جس دن علیحدگی کا فیصلہ ہو جائے اس کے ایک ماہ بعد عورت آگے نکاح کرنے کی مجاز ہے۔ (واللہ اعلم) مسئلہ رضاعت سوال:ایک لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پیا، پھر اس لڑکی کے باپ نے اس عورت سے نکاح کر لیا، کیا لڑکی کا بھائی ، اس عورت کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے جو اس کے سابقہ خاوند سے ہے؟ جواب:دودھ پینے والی لڑکی کے لیے عورت کے تمام رشتہ دار نسبی رشتوں کی طرح ہو جاتے ہیں یعنی عورت کا خاوند، اس کا باپ، خاوند کے بھائی اس کے چچا اور اس کی اولاد لڑکی کے بہن بھائی بن جاتے ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔‘‘ [2] یہ حرمت کا سلسلہ دودھ پینے والے بچے یا بچی کے لیے ہے۔ اس کے بہن بھائیوں کے ساتھ یہ سلسلہ قائم نہیں ہو گا۔ یعنی دودھ پینے والے بچے کے لیے وہ عورت ماں کے درجہ میں ہو گی جس کا بچے نے دودھ پیا ہے، اس بچے کے باقی بہن بھائی جنہوں [1] ۴/النساء: ۱۳۰۔ [2] صحیح بخاری، النکاح: ۲۶۴۴۔