کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 358
جواب:کسی کی عزت و ناموس کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، پھر اپنی رفیقۂ حیات کے بارے میں اس قسم کے خیالات ذہن میں لانا جس سے اس کی آبرو مجروح ہوتی ہو بہت برا فعل ہے، جب کہ خاوند کو اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ بیوی کی بدچلنی ظاہر نہیں ہوئی، ایسے حالات میں بیوی کے متعلق بدگمانی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ شریعت نے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ جنم دینے کو جائز قرار دیا ہے اور اسے حلال کا بچہ شمار کیا ہے، کیونکہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١﴾[1] ’’اس کے حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت تیس (۳۰) ماہ ہے۔‘‘ اور دوسرے مقام پر اس کے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس ماہ قرار دی گئی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَّ فِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ﴾[2] ’’اور اس کی دودھ چھڑانے کی مدت دو سال ہے۔‘‘ ان دونوں آیات کے مطابق اگر تیس ماہ سے دودھ چھڑانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس ماہ نکال دی جائے تو باقی مدت چھ ماہ رہ جاتی ہے جو حمل کی مدت ہے، اس سے ثابت ہو اکہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی عورت نکاح کے ساتویں ماہ میں بچہ جنم دیتی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اس میں کسی قسم کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) خواب میں بار بار طلاق دینا سوال:میں شادی شدہ ہوں اور اکثر یہ خواب دیکھتا ہوں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہوں، کیا خواب میں اپنی بیوی کو بار بار طلاق کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟ اس سلسلہ میں میری راہنمائی کریں۔ جواب:خاوند اگر بار بار خواب دیکھتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے رہا ہے تو اس خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ بیوی خاوند کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور خاوند اس سے کافی حد تک کبیدہ خاطر ہے، فریقین کو چاہیے کہ وہ اصلاح احوال کی کوشش کریں، کیونکہ خاوند کے دل و دماغ پر طلاق سوار ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ عالم بیداری میں اس قسم کے خواب کو سچا کر دکھائے، جہاں تک بیوی کو حالتِ خواب میں طلاق دینے کا مسئلہ ہے تو اس طرح کی طلاق قابل مؤاخذہ نہیں ہے اور نہ ہی اس قسم کی طلاق واقع ہوتی ہے کیونکہ سونے والے کا کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا اور نہ ہی اس کے کسی قول و عمل کو معتبر خیال کیا جاتا ہے، اس قسم کے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعے انسان کو پریشان کرے۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی انسان خواب میں ناپسندیدہ امر دیکھے تو اپنے بائیں جانب تھو تھو کرے اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگے، نیز وہ اپنی کروٹ بدل کر لیٹ جائے، یہ عمل تین [1] ۴۶/الاحقاف: ۱۵۔ [2] ۳۱/لقمان:۱۴۔