کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 356
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے خاوند کی اصلاح فرمائے اور حسن خلق اور خندہ پیشانی کے ساتھ بیوی کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے۔‘‘ (آمین!) وہ امور جن کے پیش نظر خاوند کی طلاق کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا سوال:وہ کون سے امور ہیں جن کے پیش نظر خاوند کی طلاق کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور اس کے طلاق دینے کے باوجود بیوی مطلقہ نہیں ہوتی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب:جب شوہر عاقل، بالغ اور مکلف و مختار ہو تو اس کی طلاق کا اعتبار کیا جاتا ہے اور اس کی طلاق سے بیوی مطلقہ ہو جاتی ہے، اس کے برعکس اگر نابالغ ہے یا حالت نشہ میں ہے یا وہ اس قدر شدید غصہ میں ہو کہ طلاق کے نقصان کو سمجھنے سے عاجز ہو جائے اور اسے مدہوش کر دے تو ایسے حالات میں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’تین شخص مرفوع القلم ہیں، سویا ہوا آدمی حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے، بچہ حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے اور مجنون حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے۔‘‘ [1] اسی طرح جو شخص مجبور ہو اور اس سے زبردستی طلاق لی گئی ہو، اس کی طلاق کا بھی اعتبار نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’زبردستی طلاق اور جبری آزادی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ [2] اہل علم نے ’’اغلاق‘‘ کا یہ معنی کیا ہے کہ زبردستی اور شدید غصہ کی حالت کو اغلاق کہا جاتا ہے، اسی طرح ایسے شخص کی طلاق کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے جو نشہ میں مدہوش ہو، ایسا نشہ کہ عقل کو ماؤف کر دے اگرچہ نشہ کی وجہ سے گنہگار ہو گا لیکن اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (واللہ اعلم) رجعی طلاق کا حکم سوال:ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں طلاق دے دی اور ایک ہی مجلس میں تین دفعہ طلاق کے الفاظ دہرائے، اس کے چھ دن بعد تحریری طلاق بھی لکھ دی لیکن اسے بیوی تک نہیں پہنچایا، اب طلاق کے اڑھائی سال بعد دونوں صلح کرنا چاہتے ہیں، کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ جواب:قرآن و حدیث کے مطابق ایک مجلس کی تین طلاق ایک رجعی شمار ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی صراحت ہے، اس طلاق کے چھ دن بعد خاوند نے تحریری طلاق بھی دے دی جو بیوی تک نہیں پہنچائی، اس طرح یہ دوسری طلاق ہے، واضح رہے کہ طلاق کے لیے بیوی کو اس کا علم ہونا ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے مؤثر ہونے کے لیے شرط ہے، اڑھائی سال تک عورت کی عدت ختم ہو چکی ہے، عدت ختم ہوتے ہی نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اب تجدید نکاح سے صلح ہو سکتی ہے بشرطیکہ عورت رضا مند ہو، اس کے سرپرست کی اجازت ہو، گواہ بھی موجود ہوں اور حق مہر بھی از سر نو مقرر کیا جائے، ان چار شرائط کی موجودگی میں نیا نکاح کر کے اپنا گھر آباد کیا جا سکتا ہے، لیکن آیندہ کے لیے طلاق وغیرہ کے اقدام سے اجتناب کرنا ہو گا۔ کیونکہ اب تجدید نکاح [1] ترمذی، الحدود: ۱۴۲۳۔ [2] ابوداود: ۲۱۹۳۔