کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 351
بہرحال نکاح متعہ کی حرمت کے متعلق تمام اہل اسلام کا اجماع ہے، روافض اسے جائز کہتے ہیں، جمہور، سلف و خلف کے اجماع کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم) بے نماز کے ساتھ نکاح کرنا سوال:کیا بے نماز کو اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دینا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔ جواب:بچیوں کے نکاح اور اس کے معیار کے متعلق کتاب و سنت میں بڑی کھلی ہدایات ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’عورت سے چار چیزوں کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی اور حسن و جمال کی وجہ سے اور اس کے دین و اخلاق کی وجہ سے۔ تم دیندار عورت سے نکاح کرنے میں کامیابی حاصل کرو۔‘‘[1] یہ حدیث اس امر کی واضح دلیل ہے کہ نکاح کے سلسلہ میں دین اور اخلاق کے پہلو کو ترجیح دی جائے۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید تفصیل ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے دین و اخلاق کو پسند کرتے ہو تو اسے نکاح دے دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد پیدا ہو گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اس میں کوئی بات موجود ہو تو آپ نے پھر اپنی بات کو دہراتے ہوئے فرمایا: ’’جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے دین و اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اسے نکاح دے دو۔ آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔‘‘ [2] صورت مسؤلہ میں بے نماز شخص اس معیار کا حامل نہیں ہے، ہاں اگر رشتہ طلب کرنے والا نماز باجماعت ادا نہیں کرتا تو وہ فاسق، اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے نیز وہ مسلمانوں کے اجماع کا بھی مخالف ہے۔ تاہم اس سے وہ دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا، ایسے شخص کو بیٹی یا بہن کا رشتہ دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اگر دوسرے رشتے ملیں جو دینی اعتبار سے بہتر ہوں تو انہیں ترجیح دی جائے، خواہ وہ مال و دولت اور حسب و نسب کے اعتبار سے کم مرتبہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر رشتہ کا طالب نماز کے قریب تک نہیں جاتاتو ایسے آدمی سے رشتہ کرنا ناجائز ہے۔ (واللہ اعلم) رخصتی سے قبل طلاق ہونے پر حق مہر لینا سوال:میری ہمشیرہ کا نکاح ہوا لیکن رخصتی سے قبل ہی اسے طلاق ہو گئی، کیا وہ حق مہر لینے کی مجاز ہے؟ نیز وہ کب عقد ثانی کر سکتی ہے؟ جواب:مطلقہ عورت کے حق مہر کی ادائیگی کے متعلق شرعی طور پر چار صورتیں ممکن ہیں۔ 1) حق مہر مقرر نہیں ہوا تھا اور صحبت سے پہلے اسے طلاق ہو گئی، اس صورت میں خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی کو کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے کیونکہ رشتہ ازدواج جوڑنے کے بعد صحبت سے پہلے ہی طلاق دینے سے عورت کو جو نقصان ہوا ہے، اس کی [1] صحیح بخاری، النکاح: ۵۰۹۰۔ [2] ترمذی، النکاح: ۱۰۸۵۔