کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 347
شاہ حبشہ حضرت نجاشی رضی اللہ عنہ نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہاکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چار ہزار درہم مہر دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا تھا۔ [1] شرعی حق مہر کی تعیین لوگوں کی طرف سے خود ساختہ ہے بلکہ یہ حسب توفیق ہونا چاہیے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتl کا حق مہر 500 درہم تھا۔ [2] اس مقدار کو مسنون قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ وہ حق مہر جو آسانی سے ادا کر دیا جائے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر و برکت کا باعث قرار دیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بہترین حق مہر وہ ہے جسے ادا کرنا انتہائی آسان ہو۔‘‘ [3] عورت اگر اپنی خوشی سے معاف کر دے تو جائز ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ﴿فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْٓـًٔا مَّرِيْٓـًٔ﴾[4] ’’اگر وہ خوشی سے کچھ حق مہر تمہیں چھوڑ دیں تو تم اسے مزے سے کھا سکتے ہیں۔‘‘ کچھ لوگ ایسے ہی ہیں کہ اگر عورت حق مہر معاف نہ کرے تو اسے طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ راجح یہی ہے کہ جو حق مہر طے ہو جاتا ہے اسے ادا کرنا ضروری ہے، اگر ادائیگی کے بغیر فوت ہو گیا تو اس کی متروکہ جائیداد سے حق مہر کی رقم منہا کر کے بقیہ رقم کو تقسیم کیا جائے گا، ہم لوگ اس سلسلہ میں افراط و تفریط کا شکار ہیں، شادی پر لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں لیکن حق مہر کے وقت شرعی حق مہر کی رٹ لگا دی جاتی ہے جس کی مقدار سوا بتیس روپے ہے، شریعت میں اس قسم کے شرعی حق مہر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ عقدِ نکاح کے لیے مساجد کا انتخاب کرنا سوال عقد نکاح کے لیے مساجد ہی کو خاص کرنا کہاں تک درست ہے؟ اس کے متعلق کوئی حدیث مروی ہے تو اس سے بھی آگاہ کریں۔ جواب عقد نکاح مساجد میں یا ان کے علاوہ دیگر مقامات میں دونوں طرح صحیح اور درست ہے۔ البتہ مساجد میں نکاح کے اہتمام سے بہت سی برائیوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر مقامات پر یعنی شادی ہال وغیرہ میں بہت سی برائیوں کو علانیہ کیا جاتا ہے، مساجد میں نکاح کرنے سے سگریٹ نوشی اور فوٹو گرافی یا وڈیو وغیرہ سے انسان محفوظ رہتا ہے، اس بنا پر بہتر ہے کہ عقد نکاح کے لیے مساجد میں اہتمام کیا جائے اس سلسلہ میں ایک حدیث مروی ہے: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اس نکاح کا اعلان کرو اور عقد نکاح کےلیے مساجد کا انتخاب کرو۔‘‘ [5] اس حدیث کو علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔[6]تاہم کچھ علماء نے اسے حسن قرار دیا ہے۔[7] اس حدیث کی [1] ابوداود، النکاح: ۲۱۰۷۔ [2] صحیح مسلم، النکاح: ۱۴۲۶۔ [3] ابوداود، النکاح: ۲۱۱۷۔ [4] ۴/النساء:۴۔ [5] ترمذی، النکاح: ۱۰۸۹۔ [6] ضعیف ترمذی حدیث نمبر ۱۸۵۔ [7] السیل الجرار،ص: ۲۳۶،ج۲۔