کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 331
پھر سانس لینے یادوسرے پستان کی طرف منتقل ہونے کے لیے خود بخود اسے چھوڑ دے۔ 2) وہ دودھ جو بچے کی عمر دو سال مکمل ہونے سے پہلے پلایا گیا ہو، اگر بڑی عمر میں دودھ پیا ہے جب کہ اس کی غذا کا انحصار صرف دودھ پر نہیں ہے تو اس صورت میں دودھ پینا حرمت کے لیے مؤثر نہیں ہو گا۔ بہرحال صورت مسؤلہ میں بشیر نامی شخص ام کلثوم سے نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اس کی رضاعی خالہ ہے۔ بیوی کا ظہار کرنا سوال:بعض دفعہ عورت اپنے خاوند سے کہہ دیتی ہے کہ تو مجھ پر اس طرح حرام ہے جس طرح میرا باپ یا میرا بھائی حرام ہے تو یہ ظہار کے حکم میں ہو گا؟ وضاحت کریں۔ جواب:ظہار، خاوند کی طرف سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے’’تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے۔‘‘ ظہار کے متعلق قرآن کریم میں ہے: ﴿وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۰۰۳ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا١ ﴾ [1] ’’جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کر لیں تو ان کے ذمے آپس میں ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے متعلق تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے، ہاں جو شخص غلام آزاد کرنے کی ہمت نہ پائے اس کے ذمے دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں، قبل ازیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔‘‘ بیوی کا شوہر کو حرام کرنا یا اسے اپنے کسی محرم رشتہ دار کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار کے حکم میں نہیں ہے بلکہ یہ قسم کے حکم میں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی چیز کو حرام کر لیا تھا جو حلال تھی، تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ١ۚ ﴾[2] ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کیا ہے۔‘‘ اس بنا پر عورت کے ذمے قسم کا کفارہ دینا ہے وہ دس مساکین کو کھانا کھلائے، اگر اس کی ہمت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھ لے جیساکہ سورۂ المائدہ۸۹ میں مذکور ہے۔ (واللہ اعلم) عدّت کے احکام سوال:میری بیٹی کا صرف نکاح ہوا تھا، ابھی رخصتی نہیں ہوئی کہ اس کا خاوند کسی حادثہ میں ناگہانی طور پر فوت ہو گیا ہے [1] ۵۸/المجادلہ: ۳، ۴۔ [2] ۶۶/التحریم: ۲۔