کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 327
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتی تھیں اللہ کی قسم! ہمارے خیال کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے متعلق اجازت دی تھی تاکہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہ اسے دودھ پلا کر اپنا بیٹا بنا لے، اللہ کی قسم! اس عمر میں دودھ پینے والا کوئی شخص نہ ہمیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی ہم اسے اپنے پاس آنے کی اجازت دیں گی۔ [1] سوال میں ذکر کردہ بات صحیح نہیں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے تلامذہ کے متعلق یہ مؤقف رکھتی تھیں، بہرحال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ مؤقف تھا کہ بڑی عمر میں دودھ پینے سے بھی رضاعت ثابت ہو جاتی ہے لیکن جمہور اہل علم نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ صرف دو سال سے کم عمر میں پلائے گئے دودھ سے ہی حرمت ثابت ہو گی جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے، انہوں نے درج ذیل وجوہ کی بنا پر اپنے مؤقف کو راجح قرار دیا ہے۔ 1) دو سال کی عمر میں دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہونے کے متعلق متعدد احادیث ہیں جب کہ بڑے لڑکے کو دودھ پلانے کے متعلق صرف حضرت سالم رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ ہے جس میں عموم کا کوئی پہلو نہیں۔ 2) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر ازواج مطہراتl نے بھی اسی مؤقف کو اختیار کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس معاملہ میں انہوں نے اختلاف کیا تھا۔ 3) احتیاط کا پہلو بھی اسی میں ہے کہ بڑے آدمی کی رضاعت کا اعتبار نہ کیا جائے کیونکہ ایساکرنے سے زندگی میں بہت سی الجھنیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ 4) بڑے آدمی کو دودھ پلانے سے جسم کا گوشت پوست نہیں بنتا ہے حالانکہ ان چیزوں کو احادیث میں حرمت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ 5) ممکن ہے کہ یہ معاملہ صرف حضرت سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہو کیونکہ یہ چیز صرف اسی قصہ میں موجود ہے، ازواج مطہرات نے بھی اس امر کو بیان کیا ہے۔ 6) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رضاعت اس وقت معتبر ہو گی جب بھوک کے وقت دودھ پیا جائے۔‘‘ [2] ہمارے رجحان کے مطابق محتاط مؤقف یہ ہے کہ دودھ پلانے کے مسئلہ میں بچپن کا ہی اعتبار کیا جائے گا ہاں اگر حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا جیسا مسئلہ درپیش ہو مثلاً ایک آدمی جو انتہائی تعلق دار ہے، اس کا کسی عورت کے پاس جانا ضروری ہو اور اس عورت کا اس سے پردہ کرنا بھی دشوار ہو تو ایسے حالات میں اگر بڑی عمر کے آدمی کو کسی عورت نے دودھ پلا دیا تو پردہ اٹھا دینے کی حد تک اس کا دودھ قابل تاثیر ہو گا۔ نیز اس قسم کی ضرورت کو آدمی اور عورت تک ہی محدود رکھا جائے، ایسی صورت کے علاوہ دودھ پینے کے قابل تاثیر مدت دو سال تک ہی ہو گی، امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ [3] [1] نسائی، النکاح: ۳۳۲۶۔ [2] صحیح بخاری، النکاح: ۵۱۰۲۔ [3] مجموع الفتاویٰ، ص: ۶۰،ج۳۴۔