کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 326
واضح رہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کو ان کی شکل وصورت پسند نہ تھی جیسا کہ بعض دیگر روایات میں اس کی صراحت موجود ہے، چونکہ یہ عورت کا ایک ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ ہے اس لیے اگر وہ عقلمند اور صاحب بصیرت ہو تو اسے خلع لینے کے لیے اپنے والدین سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، ہاں اگر ناسمجھ یا کم عمر یا واجبی سی فہم و بصیرت کی حامل ہو تو والدین یا اپنے بھائیوں سے اجازت لے اور اس اقدام پر ان سے مشورہ کرلے تاکہ آیندہ زندگی میں اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ کھڑا ہو۔ (واللہ اعلم) رضاعت کا مانع حجاب ہونا سوال:ہمارے ادارہ میں کسی خاتون نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لیے جو تلامذہ آتے تھے آپ ان کے متعلق اپنی بھانجیوں اور بھتیجوں کو کہتی تھیں کہ تم انہیں دودھ پلا دو تاکہ میرے ہاں آنے جانے میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان سے میرا شرعی حجاب اٹھ جائے، ہمارے ہاں خواتین میں یہ مسئلہ زیر بحث ہے اور الجھن کا باعث بنا ہوا ہے، قرآن حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔ جواب:عورت کا وہ دودھ جو اجنبی سے رشتہ پر اثر انداز ہوتا ہے اس کی دو شرائط حسب ذیل ہیں: 1) بچہ کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پئے، ایک دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے، اس کی وضاحت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے۔ [1] 2) بچہ اس عمر میں دودھ پئے جب اس کی غذا کا انحصار صرف دودھ پر ہو، حدیث میں ہے کہ صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے اور دودھ چھڑانے کی مدت (دو سال کی عمر) سے پہلے ہو۔[2] اس ضابطہ سے ایک استثنائی صورت احادیث میں بیان ہوئی ہے: حضرت سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سالم رضی اللہ عنہ کو ہم نے لے پالک بنایا تھا، اب اس کے متعلق قرآن نے جو حکم دیا ہے وہ آپ کو معلوم ہے لیکن وہ ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا اور وہ بالغ ہو چکا ہے، میرے شوہر کو اس کا گھر میں آنا جانا ناگوار گزرتا ہے، ہماری الجھن کو حل فرمائیں، آپ نے فرمایا تم اسے اپنا دودھ پلا دو، اس نے کہا کہ وہ تو بڑا ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑا ہو چکا ہے، تم اسے دودھ پلا دو،۔ چنانچہ اس حکم کے بعد حضرت سہلہ رضی اللہ عنہا نے سالم رضی اللہ عنہ کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دیا پھر وہ اس کے بچے کی طرح ہو گیا اور حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ناگواری بھی دور ہو گئی۔ [3] اس حدیث کو بنیاد بنا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جس آدمی کے متعلق اپنے پاس آنے جانے میں شرعی حجاب محسوس کرتیں اور اسے وہ آدمی پسند ہوتا تو اپنی بھانجیوں کو حکم دیتیں کہ تم اسے پانچ مرتبہ دودھ پلا دو اگرچہ وہ عمر میں کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ [4] لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواج مطہرات نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس مؤقف سے اتفاق نہ کیا اور وہ اس قسم کی رضاعت کو غیر مؤثر خیال کرتیں تھیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر بچہ گود میں رہتے ہوئے دودھ پئے تو رضاعت سے حرمت ثابت ہو گی وہ [1] صحیح مسلم، الرضاع: ۱۴۵۲۔ [2] ترمذی: ۱۱۵۲۔ [3] ابوداود، النکاح: ۲۰۶۱۔ [4] ابوداود، حوالہ مذکور۔