کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 325
تو اس مدت کا اعتبار کیا جائے گا؟ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا اگروہ اس طرح بیس سال بھی گزار دے تو بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔ [1] اس بنا پر ضروری ہے کہ جس کا خاوند لاپتہ ہو جائے وہ فوری طور پر عدالت کی طرف رجوع کرے پھر اگر عدالت اس نتیجہ پر پہنچے کہ واقعی مفقود الخبر ہے تو وہ عورت کو ایک سال انتظار کرنے کا حکم دے گی، اگر اس مدت تک شوہر نہ آئے تو ایک سال کے اختتام پر عدالت نکاح فسخ کر دے گی، پھر عورت اپنے شوہر کو مردہ تصور کر کے عدتِ وفات یعنی چارہ ماہ دس دن گزارنے کے بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہو گی، اگر عدالت بلاوجہ معاملہ کو طول دے اور عورت مجبور ہو اور وہ صبر نہ کر سکے تو مسلمانوں کی ایک جماعت تحقیق کر کے فیصلہ کرے، ایسے حالات میں پنچائتی فیصلہ بھی عدالت کا فیصلہ ہی تصور ہو گا۔ کن حالات میں خلع لینا جائز ہے سوال:کیا بیوی بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع لینے کی مجاز ہے؟ وہ کون سے حالات ہیں جن کی بنا پر خلع لینا جائز ہے؟ کیا خلع لینے کے لیے عورت کو اپنے والدین سے اجازت لینا ضروری ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب کتاب و سنت کی روشنی میں دیں۔ جواب:خلع، عورت کی طرف سے علیحدگی اختیار کرنے کا نام ہے، عورت کو چاہیے کہ کسی معقول وجہ کی بنا پر اپنے خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرے، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو عورت کسی معقول وجہ کے بغیر اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔‘‘ [2] اس حدیث کی بنا پر عورت کو بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود بلاوجہ خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے اگرچہ وہ ایسا کرنے میں گنہگار ہو گی۔ وہ حالات جن کے پیش نظر عورت خلع لینے میں حق بجانب ہوتی ہے وہ حسب ذیل ہیں: 1) شکل و صورت، سیرت و کردار یا دینی اقدار کے متعلق اپنے خاوند کو ناپسند کرے۔ 2) عمر میں بڑا ہونے، کمزور ہونے یا قوت برداشت سے باہر ہونے میں بھی خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ یا اس طرح کی کوئی بھی وجہ ہو جس کی بنا پر وہ حقوق کی ادائیگی نہ کر سکتا ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ﴾[3] ’’اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان پر (خلع میں) کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی جمیلہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ میں اپنے خاوند ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے خلق و کردار اور دینی اقدار کے متعلق کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن میں اسے برداشت نہیں کر سکتی ہوں، میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ اسلام میں رہتے ہوئے کفران نعمت کا ارتکاب کروں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں اسے خلع لینے کی اجازت دی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ حق مہر میں دیا ہوا باغ واپس کر دے۔ [4] [1] المدونۃ الکبریٰ،ص: ۹۳،ج۲۔ [2] مسند امام احمد،ص: ۲۷۷،ج۵۔ [3] ۲/البقرہ: ۲۲۹۔ [4] صحیح بخاری، الطلاق: ۵۲۷۳،۵۲۸۵۔