کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث(جلد 3) - صفحہ 315
جواب:بشرط صحت سوال صورت مسؤلہ میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ﴾[1] ’’اگر مرنے والے کی اولاد ہو تو بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔‘‘ باپ کا چھٹا حصہ ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ لِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ﴾[2] ’’اگر میت کی اولاد ہے اور والدین بھی ہیں تو والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔‘‘ مقررہ حصہ لینے والے ورثاء سے جو باقی بچے وہ اولاد کا ہے۔ حدیث میں ہے کہ مقررہ حصہ لینے والوں کو ان کے طے شدہ حصے دئیے جائیں، ان سے جو باقی بچے وہ مذکر قریبی رشتہ دار کا ہے۔ [3] پھر اولاد میں اس شرح سے تقسیم کیا جائے کہ لڑکے کو لڑکی کے مقابلہ میں دو گنا ملے، واضح رہے کہ تقسیم سے پہلے قرض کی ادائیگی ضروری ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍ١ ﴾[4] ’’یہ تقسیم میت کی وصیت اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی۔‘‘ سہولیت کے پیش نظر کل ترکہ کو بہتر(۷۲) حصوں میں تقسیم کر دیا جائے، ان میں آٹھواں حصہ یعنی نو حصے بیوہ کو اور چھٹا حصہ یعنی ۱۲ حصے والد کو اور باقی ۱:۲ کی نسبت سے لڑکے اور لڑکی میں تقسیم کر دیا جائے، لڑکی۱۷ حصے اور لڑکے کو چونتیس حصے دئیے جائیں۔ ایک لاکھ ترکہ سے اٹھائیس ہزار قرض منہا کیا تو باقی بہتر(۷۲) ہزار روپیہ ہے، اس سے نو ہزار بیوہ کو، بارہ ہزار والد کو، چونتیس ہزار روپیہ لڑکے کو اور سترہ ہزار روپے لڑکی کو دیا جائے۔ (وااللہ اعلم بالصواب) لے پالک کا حصہ سوال:میرا ایک بیٹا ہے اور میں نے اپنے پھوپھی زاد سے ایک بیٹا لے کر پالا ہے، اسے پڑھایا اور اس کی شادی کر دی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے باپ کے پاس چلا جائے، کیا وہ میری جائیداد سے حقدار ہو گا، کتاب و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی کریں؟ جواب:کسی دوسرے کے بچے کو اپنی گود میں لینا اسے لے پالک کہا جاتا ہے، اس کے متعلق ہمارے معاشرہ میں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً جو آدمی کسی دوسرے کا بیٹا لیتا ہے اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے۔ سکول وغیرہ میں داخلہ کے وقت والد کے خانہ میں اپنا نام لکھواتا ہے، حالانکہ وہ اس کا نہ حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی پرورش کنندہ کو حقیقی والد قرار دیا جا سکتا ہے قرآن کریم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم ان متبنی بیٹوں کو ان کے باپ کے ناموں سے پکارا کرو۔‘‘ [5] [1] ۴/النساء:۱۲۔ [2] ۴/النساء:۱۱۔ [3] صحیح بخاری، الفرائض: ۶۷۴۶۔ [4]  ۴/النساء:۱۲۔ [5] ۳۳/الاحزاب:۵۔